توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 161 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 161

توہین رسالت کی سزا { 161 } قتل نہیں ہے 23 سفیان ہذیلی ایک روایت یہ بھی پیش کی جاتی ہے کہ ”امام سیوطی نے خصائص الکبری میں سفیان ہذیلی کے بارے میں یہ روایت لکھی کہ آنحضور صلی اللہ ﷺ نے اس گستاخ کی نشاند ہی خود فرمائی اور کہا کہ اس وقت وہ وادی نخلہ یا وادی عرنہ میں ہے۔تم جاؤ اور اسے قتل کرو۔آپ نے عبداللہ بن انہیں کو اپنا عصا مبارک بطور انعام عطا فرمایا۔“( الخصائص الکبرای جلد 1 صفحہ 523) لیکن یہ پوری روایت اس طرح ہے کہ بیہقی اور ابو نعیم نے یہ روایت لی ہے کہ عبد اللہ بن انیس فرماتے ہیں کہ انہیں رسول اللہ صلی ال یکم نے فرمایا کہ آپ کو یہ اطلاع ملی ہے : ” إِنَّ ابْنَ تبَيْحَ الهُذَيْلِ يَجْمَعُ النَّاسَ لِيَغُرُونَنِي وَهُوَ بِنَخْلَةَ أَوْ بِعُرَنَةٌ فَاتِهِ فَاقْتُلُهُ ( الخصائص الكبرى جلد 1 صفحہ 390 باب ما وقع في قتل سفیان بن نبی العلی، الناشر دار الکتب العلمیة بیروت) کہ ابن تیج تہذیلی لوگوں کو نخلہ میں یاوادی عرنہ میں جمع کر رہا ہے تاکہ مجھ پر چڑھائی کرے۔لہذا جاؤ اور اسے قتل کر دو۔جو روایت پیش کی گئی ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ ہذیلی شخص ایک وادی میں کھڑا رسول اللہ صلی للی کم پر کوئی گالی گلوچ نہیں کر رہا تھا جس کے انسداد کے لئے آپ نے اسے قتل کا حکم صادر فرمایا تھا۔یہ روایت کسی گالی گلوچ کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ ایک کھلی کھلی محاربانہ کارروائی کی نشاندہی کرتی ہے۔ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لئے دفاعی اقدامات تو رسول اللہ صلی الی یکم کئی غزوات اور سرایا کے ذریعے بھی فرما چکے ہیں۔مثلاً خیبر پر آپ کے غزوے کی بنیاد ہی یہ تھی کہ اہل خیبر مجد کے غطفانی قبائل اور دیگر کئی قبائل سے معاہدے کر کے غزوہ احزاب سے بڑی تعداد میں قبیلوں اور فوجوں کا انتظام کر رہے تھے اور مدینے پر یلغار کے لئے تیار تھے۔یہ اطلاع جب رسول اللہ صلی علیم کو پہنچی تو بجائے اس کے کہ وہ مدینے پر چڑھائی کرتے ، آپ نے ان پر