توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 25
توہین رسالت کی سزا ( 25 ) قتل نہیں ہے گستاخوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ آپ کو صرف یہی تعلیم دیتا ہے کہ ان سے اعراض کرو اور اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھو۔ان سے اللہ تعالیٰ خود نپٹے گا۔کسی انسان کو ان کے قتل کی اجازت نہیں دی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَيَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ عِندِكَ بَيَّتَ طَابِفَةٌ مِنْهُمْ غَيْرَ الَّذِي تَقُولُ وَاللَّهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ وَكَفَى بِاللهِ وَكِيلاً “ (النساء:82) ترجمہ : اور وہ ( محض منہ سے ) اطاعت کہتے ہیں ! پھر جب وہ تجھ سے الگ ہوتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ ایسی باتیں کرتے ہوئے رات گزارتا ہے جو اس سے مختلف ہیں جو تو کہتا ہے۔اور اللہ ان کی رات کی باتوں کو احاطہ تحریر میں لے آتا ہے۔پس ان سے اعراض کر اور اللہ پر توکل کر اور اللہ کار ساز کے طور پر کافی ہے۔اس آیت میں انہی لوگوں کا ذکر ہے جو وہ رسول اللہ صلی علیم پر بہتان باندھتے ہیں۔آپ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جو آپ نے کی نہیں ہو تیں۔آپ کی توہین و تنقیص کی یہ ایک واضح جسارت ہے جس کے وہ مر تکب ہوتے ہیں۔مگر اللہ تعالیٰ ان سے اعراض یعنی رُخ موڑنے اور صرفِ نظر کی تلقین فرماتا ہے۔اسی طرح یہ بھی فرماتا ہے: وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِيْلَ (الحجر: 86) ترجمہ : اور ساعت ضرور آنے والی ہے۔پس بہت عمدہ طریق پر در گزر کر۔قرآن کریم مجرموں کو قتل کرنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ فیصلے کی گھڑی کی بات فرماتا ہے کہ جب وقت آئے گا تو لازماً ان کا فیصلہ ہو گا۔اس سے پہلے ان سے بہت عمدہ طریق پر در گزر