توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 24
توہین رسالت کی سزا ( 24 )- قتل نہیں ہے نہ کریں جنہوں نے کفر کیا کہ ہم جو انہیں مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے لئے بہتر ہے۔ہم تو انہیں محض اس لئے مہلت دے رہے ہیں تاکہ وہ گناہ میں اور بھی بڑھ جائیں۔اور ان کے لئے رُسوا کر دینے والا عذاب ( مقدر )۔ہے۔یعنی ایسے لوگ جو کفر اختیار کرنے میں جلدی کرتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے تا کہ وہ مہلت سے فائدہ اٹھائیں اور کفر و گناہ کو ترک کریں۔مگر وہ ایسا نہیں کرتے۔ان کے اس منفی طرز عمل پر اللہ تعالیٰ پھر منطقی نتیجے کا ذکر فرماتا ہے کہ بالآخر وہ گناہوں میں بڑھ جاتے۔مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس آیت میں بھی انہیں قتل کرنے کی کوئی تعلیم نہیں ہے بلکہ ڈھیل اور مہلت دینے کا حکم ہے تاکہ ان پر ہر رنگ اور پہلو سے حجت تمام ہو جائے۔پس یہ تعلیم قتل شاتم میں واضح طور پر مانع ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ان آیات میں تسلسل کے ساتھ عذاب عظیم، عذاب الیم اور عذاب مہین کا ذکر ہے۔مگر ان کے قتل اور ان کی گردنیں مارنے وغیرہ الفاظ کا کہیں ذکر نہیں ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ عملاً بھی کوئی واقعہ ایسار و نما نہیں ہوا کہ ان کو قتل کیا گیا۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللی یکی نے ایسا کرنے والوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ رکھا تھا۔چنانچہ آپ کی پاک سیرت اور اسلام کی روشن تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو بھی قتل نہیں کیا گیا۔رسول اللہ صلی ال نیلم کی باتوں کو توڑنے مروڑنے والے رسول اللہ صلی للی کم کی باتوں کو بگاڑنا، ان کو مختلف معنے پہنانا اور انہیں تضحیک کا نشانہ بنانا وغیرہ وغیرہ ایسے فعل ہیں جن کی بنیاد واضح گستاخی پر استوار ہے۔اس گستاخی میں وہ ساری ساری رات بھی گزار دیتے ہیں۔اس کے باوجود انہیں قتل کرنے کی تعلیم نہیں دی گئی۔بلکہ ایسے