توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 26 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 26

توہین رسالت کی سزا { 26 ) قتل نہیں ہے کرنے کی تلقین فرماتا ہے۔پھر قرآن کریم رسول اللہ صلی ا لی ایم کو وارونگی سے روکتا ہے اور نصیحت کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرماتا ہے: فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِ إِلَّا مَن تَوَلَّى وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الْأَكْبَرَه إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ (الغاشیہ : 2 تا27) ترجمہ : پس بکثرت نصیحت کر۔تو محض ایک بار بار نصیحت کرنے والا ہے۔تو ان پر داروغہ نہیں۔ہاں وہ جو پیٹھ پھیر جائے اور انکار کر دے۔تو اُسے اللہ سب سے بڑا عذاب دے گا۔یقیناً ہماری طرف ہی اُن کا کوٹنا ہے۔پھر یقینا ہم پر ہی اُن کا حساب ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ کسی وضاحت سے فرماتا ہے کہ عذاب دینا اس کا کام ہے۔منہ پھیر لینے والے اور کفر اختیار کرنے والے کے عذاب کو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔اسے جب رسول اللہ صلی علیکم کے اختیار میں بھی نہیں دیا تو کسی اور کو یہ اختیار کس طرح مل سکتا ہے ؟ پس یہ دعوی کہ جو توہین رسول کا مر تکب ہو اسے قتل کیا جا سکتا ہے یا اسے کوئی بھی سزا دے سکتا ہے منافی قرآن دعوی ہے۔یہاں یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ اسلام جرائم کی روک تھام اور امن عامہ کے قیام کے لئے حدود و تعزیرات کا ایک مکمل اور جامع نظام پیش فرماتا ہے۔لیکن اس نظام میں کسی جگہ بھی جذبات کے مجروح ہونے کی کوئی سزا نہیں رکھتا۔بلکہ مہذب دنیا کے بھی کسی قانون میں ایسی سزا نہیں ہے۔جیسا کہ قارئین آئندہ صفحات میں دیکھیں گے کہ قرآن کریم کسی کی طرف سے جذبات کی انگیخت پر یا جذبات مجروح کرنے پر ہمیشہ اعراض، صبر اور توکل پر خاص زور دیتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے: