توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 384
توہین رسالت کی سزا 384} قتل نہیں ہے انصار کو اس معاشرہ اور ریاست میں امت واحدہ قرار دیا۔فرمایا: ” إِنَّهُمْ أُمَّةٌ وَاحِدَةٌ مِنْ دُونِ النَّاسِ۔“ (سیرۃ ابن ہشام، زیر عنوان الرسول یوادع الیہود۔جلد 2، صفحہ 64) کہ یہ سب مسلمانوں کے ساتھ بطور امت واحدہ شامل سمجھے جائیں گے۔یہ رسول اللہ صلی الک کا قائم کر دہ روشن راستہ اور لائحہ عمل ہے جس میں بلا تفریق مذہب و ملت اور قوم و نسل ہر ایک شہری ملک کی ایک یکساں اگائی تھا۔بحیثیت فردِ قوم کسی میں کوئی فرق نہ تھا۔رسول اللہ صلی علیکم نے یہ راستہ اور عظیم اصول "اُمَّةٌ وَاحِدَةٌ“ کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔اس پر عمل حتمی طور پر قوم و ملک کو متحد و مضبوط بناتا ہے۔فرقہ واریت اور جماعتوں اور قوموں کا استئصال ملک کی بنیادوں کو کھو کھلا اور عمارت کو کمزور کر دیتا ہے۔دین و مذہب کی آزادی اور اظہارِ رائے اور آزادی ضمیر پر قدغنیں ملک میں تفریقیں پیدا کرتی ہیں۔اس میں پھر اسی طرح ظلم و تشدد اور کشت و خون ہوتا ہے جیسا ہمارے ملک میں ہو رہا ہے۔پس میثاق مدینہ کو * * ملک کا بنیادی قانون بنانا چاہئے۔وکلاء اور سیاسی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھنے والے مسلمانوں کو متوجہ کیا جائے کہ وہ بھی ارباب حکومت کو بارو کر ائیں کہ جذبات و خیالات اور آزادی رائے میں حدود مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔اگر کسی قوم یا ملک کا لیڈر شانِ رسول میں گستاخی کرتا ہے تو اس کا جواب بھی علمی طور پر دلیل سے دیا جائے نہ کہ اپنے ہی ملک میں ، اپنے ہی لوگوں کی املاک کی توڑ پھوڑ سے۔گستاخی اور توہین کے رڈ کے لئے دلائل و براہین کی ضرورت ہے جو دلوں کو قائل اور انہیں سچائی کی جانب مائل کرتے ہیں۔یہ واضح ظلم اور کھلی کھلی بے ہودگی ہے کہ مخالف تو اعتراض کریں اور غلامانِ رحمتہ للعالمین اس کا جواب کشت و خون اور قتل وغارت گری سے دیں۔