توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 385 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 385

توہین رسالت کی سزا ( 385 } قتل نہیں ہے مذہب کے نام پر جبر و تشدد اور سر تن سے جدا قسم کے جذبات و عزائم کو روک کر اسوۂ محمدی کے مظاہر پیدا کرنے اور دنیا کو رسول اللہ صلی ال نیم کے اس پاک اسوے سے روشناس کرانے کی ضرورت ہے اور بدلائل ثابت کرنا ضروری ہے اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور رسول اللہ صلی الم ایک زندہ اور زندگی بخش رسول ہیں (ملی یکم۔آج انسان کی روحانی زندگی کا ضامن صرف اور صرف ایک ہی رسول ہے جس کا نام ہے محمد صلی ال کیا۔اس کا پیغام تلوار نہیں ہے بلکہ دلیل اور محبت ہے جو دلوں کو فتح کرتی ہے اور روحوں کو حصارِ محمدی میں محفوظ و مامون کرتی ہے۔توہین رسول کے انتقام کے لئے ایسی تحریک کی ضرورت ہے۔یہ کون سا اسلامی رد عمل ہے کہ اپنے ہی ملک کے لوگوں کو مار دیا جائے، اپنی ہی جائیدادوں کو آگ لگادی جائے اور اپنے ہی بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ بنادیا جائے۔یعنی گناہ تو کوئی کرے اور سر ہم اپنا پھوڑ لیں۔ایسی حرکتوں کا اسلام اور سنتِ رسول ا اور انسانیت سے دور کا نہیں۔اسلام تو غیر قوموں کی دشمنی میں بھی عدل اور انصاف کو ہاتھ سے چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔بلکہ عقل، تحمل اور صبر وعفو سے چلنے کا حکم دیتا ہے۔بہر حال غیر ملکیوں کے کاروباروں کو یا سفارتخانوں کو نقصان پہچانے یا اپنے ہی لوگوں کو نقصان پہنچانے کے جو عمل ہیں ، حماق بھی سوائے اسلام کو بد نام کرنے کے اور کچھ نہیں ہے۔عوام میں یہ شعور اور پھر یقین پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ فتنہ وفساد اور نفرت و افتراق بھڑ کانے والے ان غلط قسم کے علماء اور راہنماؤں کے پیچھے چلنے کی بجائے ، ان کے پیچھے چل کر اپنی دنیا و آخرت کو خراب کرنے کی بجائے ، عقل سے کام لیتے ہوئے اسوہ رسول صلی للی نام اور آپ کی سنت کو لازم پکڑیں۔آپ کی سنت کے خلاف احادیث کی من پسند ظالمانہ تشریحات اور خود تراشیدہ روایات کو ترک کر کے اسوہ رسول پر کار بند ہو نا فرض ہے۔