توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 371
توہین رسالت کی سزا { 371 ) قتل نہیں ہے اس منصوبہ بندی کے تحت ابو عامر راہب ہر قل شاہ روم کے پاس شام روانہ ہو گیا تا کہ اسے اسلام کے خلاف عسکری کارروائی پر انگیخت کرے۔وہ ابھی شام ہی میں تھا کہ اسے موت نے آلیا اور راہی ملک عدم ہو گیا۔(تاریخ الخمیس واقعات 10 ھ ، موت ابو عامر راہب) ادھر مدینے میں منافق نت نئی افواہوں کے ذریعے شر پھیلانے میں مستعد تھے۔وہ روز اس طرح کی کوئی نہ کوئی افواہ پھیلا دیتے کہ فلاں قافلہ آیا تھا جس نے یہ خبر دی کہ قیصر مدینے پر حملے کی تیاری کر رہا ہے۔فلاں قافلے والے یہ بتاتے تھے کہ رومی فوج مدینے پر حملہ کر رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔اس قسم کی افواہیں اس کثرت اور تیزی سے پھیلنی شروع ہوئیں کہ مدینے کی فضا میں خوف کے سائے منڈلانے لگے۔چنانچہ آنحضرت صلی الی یکم نے اس صورتحال کو ختم کرنے کا فیصلہ فرمایا کہ اگر ایسی خبروں میں کوئی حقیقت ہوئی بھی تو قبل اس کے کہ رومی فوج اسلامی سلطنت میں داخل ہو، آپ خود جاکر شام کی سرحدوں پر رومی فوج کی نقل و حرکت معلوم کریں گے۔اگر اس سے مقابلہ نہ بھی ہو ا تو اس سفر کے اسلام کے حق میں لازماً دیگر بابرکت نتائج ظاہر ہوں گے۔چنانچہ رسول اللہ صلی علیکم اس سفر پر روانہ ہوئے اور کئی سو میل کی طویل مسافت طے کر کے شام کے سرحدی علاقے میں تبوک کے مقام پر قیام پذیر ہو گئے۔یہاں ایک لمبے انتظار کے با وجو درو می افواج سے کوئی مڈ بھیڑ تو نہ ہوئی مگر معاہدوں اور چھوٹی چھوٹی مہمات کے ذریعے ارد گرد کے کئی علاقے آپ کے زیر نگین ہو گئے۔الغرض منافقین مدینہ کی اس بہت بڑی سازش پر بھی آپ نے ان میں سے کسی پر کوئی تعزیری کارروائی نہیں فرمائی۔منافقوں کی ایک خوفناک سازش: جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ اس بار منافقوں کو قطعی یقین تھا کہ مسلمان اگر تبوک جائیں گے تو وہ اس لڑائی میں لازماً شکست کھائیں گے اور آنحضرت صلی کم ( نعوذ باللہ) شہید ہو