توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 370 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 370

توہین رسالت کی سزا 370 } قتل نہیں ہے آپ کہ توہین کا منہ بولتا ثبوت تھی۔اس سب کچھ کے باوجود آپ نے نہ انہیں کوئی سزا دی اور نہ ہی ان میں سے کسی کے قتل کا ارشاد فرمایا۔۴) منافقوں کی سرگرمیاں: یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ فتح مکہ کے بعد منافقین مدینہ کے دل شعلہ حسد سے کباب ہو رہے تھے۔وہ کسی نہ کسی طریق سے آنحضرت صلی لی کم اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی تدبیروں میں انتہائی تڑپ کے ساتھ سرگرم عمل تھے۔ان لوگوں کو علم تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ سلطنت روما کی خوب ٹھنی ہوئی ہے اور جنگ موتہ میں ایک باران کا مقابلہ بھی ہو چکا ہے۔انہیں یقین تھا کہ اگر قیصر کی فوج تیار ہو کر آئے اور مدینے پر چڑھائی کر دے تو مسلمان لازما پاش پاش ہو جائیں گے۔چنانچہ انہوں نے یہ خوفناک سازش تیار کی کہ ابو عامر راہب شام جاکر قیصر کو اور عرب عیسائی قبائل کو مدینے پر حملے کے لئے انگیخت کرے گا اور باقی منافق مدینے میں قیصر روم کے حملے کی افواہیں پھیلا کر مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا کریں اور ان کے حوصلے توڑیں۔ان کی منصوبہ بندی کا دوسرا رخ یہ تھا کہ اگر رومی فوج مدینہ پر حملہ نہ بھی کرے تو وہ خوف و ہراس پھیلانے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو کم از کم اس قدر انگیخت ضرور کر دیں کہ وہ از خود جا کر رومی سلطنت پر حملہ آور ہو جائیں۔چونکہ رومی فوج اس مرتبہ تیار ہو گی لہذاوہ مسلمانوں کو شکست فاش دے گی اور مسلمان تباہ ہو جائیں گے۔حتی کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی علیم بھی شہید ہو جائیں گے۔آخر کار اسلام ختم ہو جائے گا اور نہ صرف یہ کہ ان سازشیوں کے سینوں کی آگ ٹھنڈی ہو جائے گی بلکہ وہ مدینے کے مطلق العنان خود مختار حکمران بن جائیں گے۔