توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 372 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 372

توہین رسالت کی سزا { 372 ) قتل نہیں ہے جائیں گے۔اس کے بعد مدینے میں منافقوں کی حکومت ہو گی اور وہ اپنی من مانیاں کریں گے۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی خواہشوں کے علی الرغم آپ فتوحات کے نئے دروازے کھولنے کے بعد اور عظیم کامیابیوں کی خبروں کے ساتھ ایک عظیم فاتح بن کر واپس مدینے پہنچ رہے تھے۔اس شان کے ساتھ مدینے میں آپ کے ورودِ مسعود کا منظر بھی منافقوں کے دلوں کو چھلنی اور سینوں کو چاک کر رہا تھا۔اس کے ساتھ ان پر یہ خوف بھی طاری تھا کہ آپ کے سامنے ان کی چالوں اور سازشوں کا چونکہ بھانڈا پھوٹ چکا ہے، اس لئے اب آپ ان پر ضرور کوئی نہ کوئی تعزیری کارروائی فرمائیں گے۔اس ناقابل برداشت کیفیت سے نکلنے کے لئے انہوں نے یہ بھیانک سازش تیار کی ہوئی تھی کہ آپ کو راستے ہی میں شہید کر دیا جائے۔اس غرض کے لئے انہوں نے شروع میں ہی اپنے درجن بھر آدمی آپ کے ساتھ لشکر میں شامل کر دیئے تھے۔چنانچہ مدینے سے کچھ فاصلے پر جہاں ایک ایسی گھائی سے گزرنا پڑتا تھا جو بہت تنگ تھی اور اس جگہ سے سوار ایک ایک کر کے گزر سکتے تھے۔آپ جب اس کے پاس پہنچے تو رات کا وقت تھا۔اس اند ھیرے سے فائدہ اٹھا کر یہ لوگ تیزی سے آگے بڑھ کر اس گھاٹی میں چھپ گئے تا کہ جب آپ ان کے نشانے پر ہوں تو وہ اپنا کام کر جائیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے خبر دی کہ اس راستے پر دشمن چھپا ہوا ہے۔آپ نے حضرت حذیفہ بن یمان کو خبر لینے کے لئے بھیجا۔حضرت حذیفہ سواری تیز کر کے وہاں پہنچے تو انہوں نے چند نقاب پوش آدمی چھپے ہوئے دیکھے جو ان کے آنے کی وجہ سے بھاگ گئے اور آپ انہیں پہچان نہ سکے۔آنحضرت صلی یکم کے عفو و در گزر کی یہ بھی ایک لاثانی مثال ہے کہ آپ نے ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا اور ان کا تعاقب کر کے انہیں گرفتار نہیں کروایا۔