توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 366 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 366

توہین رسالت کی سزا ۲) سازشوں کا اڈہ: { 366} قتل نہیں ہے اسی طرح کا ایک اور مگر مزید سنگین واقعہ یہ بھی ہے کہ سونیکم نامی ایک یہودی مدینے کے علاقے جاسوم میں مقیم تھا۔اس کا گھر منافقوں کا گڑھ تھا۔منافق وہاں اکٹھے ہوتے اور غزوۂ تبوک کے بارے میں دہشت والی باتیں تراشتے، افواہیں گھڑتے اور پھر انہیں صحابہ میں پھیلاتے تاکہ ان کے حوصلے پست ہوں اور وہ خوف کی وجہ سے اس غزوے میں آنحضرت صلی ا ظلم کے ساتھ نہ جاسکیں۔آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے حضرت عمار بن یاسر کو بھیجا کہ وہ ان کو بتا دیں کہ انہوں نے ایسی سازشیں تیار کی ہیں اور منافقانہ باتیں کی ہیں۔انہیں جب پتہ چلا کہ آپ گوان کی باتوں کا علم ہو گیا ہے تو وہ آپ کی خدمت میں آکر معذر تیں پیش کرنے لگے۔مگر اپنی حرکتیں جاری رکھیں۔للمسلمين الغرض آنحضرت صلی الی یم کو جب سازشوں کے اس اڈے کی قطعی تصدیق مل گئی تو آپ کے حکم پر حضرت طلحہ بن عبید اللہ چند صحابہ کے ساتھ گئے اور سویلم کے گھر کو جلا آئے۔چنانچہ اس طرح وقتی طور پر سازشوں کا یہ اڈہ ختم ہو گیا۔(ابن ہشام غزوہ تبوک، تخذیل المنافقین ومانزل فيهم والسيرة الحلبیہ ذکر ماریہ ملیالم فزوہ تبوک ) یعنی آپ نے ان کے جرائم پر انہیں قتل نہیں کیا اور نہ ہی کوئی بدنی سزا دی۔صرف سازشوں کے اڈے کو ختم کر وا دیا۔۳) مسجد ضر ار اور اس کا انہدام: آنحضرت صلی للی رام نے جب ملنے سے ہجرت فرمائی تو مدینے میں داخل ہونے سے پہلے قبا میں قیام فرمایا تھا۔آپ نے اس قیام کے دوران وہاں ایک مسجد کی بنیاد بھی رکھی تھی۔یہ مسجد بنو عمرو بن عوف کی جگہ میں بنائی گئی تھی۔اس کی وجہ سے بنو عمرو کو فضیلت مل گئی۔ان کے شریکے