توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 367 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 367

توہین رسالت کی سزا 367 | قتل نہیں ہے والے بنو غنم بن عوف مسلمان تو ہوئے تھے مگر اس مسجد کی وجہ سے بنو عمر و سے حسد کرنے لگے تھے۔ان کی اس حالت سے منافقوں نے فائدہ اٹھایا اور انہیں اپنے ساتھ ملالیا۔اپنی سازشوں کی تیاری اور خواہشات کی تکمیل کے لئے فتنہ پرداز حاسد ابو عامر راہب بھی قبا میں آٹھہر اتھا۔اس نے بنو غنم کو انگیخت کیا کہ وہ بھی بنو عمرو کے مقابل پر مسجد تعمیر کریں جس کے ذریعے وہ اپنے مفادات حاصل کر سکیں گے۔اس نے انہیں یہ بھی کہا کہ تم اس مسجد میں جس قدر ممکن ہو اسلحہ ر جنگی سامان جمع کرو۔جب رومی فوج مدینے پر حملہ کرے گی تو وہ ان کے ذریعے رسول اللہ لی ایم کو مدینے سے نکال دے گا وغیرہ وغیرہ۔یہ کام کروا کے وہ خود ہر قل کو مدینے کے خلاف ابھارنے کے لئے شام روانہ ہو گیا اور اس کی ہدایت پر پیچھے منافق اپنا کام کرتے رہے۔ان کی کوششوں سے اُن کے گروہ کے بہت سے لوگ نیز بعض کمزور ایمان والے اس نئی مسجد میں آنے لگے اور یہاں آنحضرت صلی اللی کم اور اسلام کے بارے میں عیب چینیوں اور غیبتوں کے ساتھ سازشیں تیار ہونے لگیں۔چنانچہ تکلیف پہنچانے ، کفر پھیلانے، مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور ایسے دشمن کو کمین گاہ مہیا کرنے کے لئے یہ نام نہاد مسجد ایک اڈہ بن گئی۔ادھر آنحضرت ملا لی کی مختلف خبروں کی تصدیق کے لئے ، رومی فوج کی مزعومہ یا متوقع پیش قدمی کو روکنے کے لئے نیز اسلام کی فتوحات کے میدان وسیع کرنے کی غرض سے تبوک کے لئے روانگی کی تیاری میں مصروف تھے۔اُدھر منافقوں نے اس نقصان رساں مسجد کو قانونی حیثت دینے کے لئے آپ کی خدمت میں درخواست کی کہ انہوں نے قبا میں ان لوگوں کے لئے جو بیمار ہوں اور رات، بارش یا سردی کی وجہ سے یا کسی اور معذوری و مجبوری کے باعث مسجد قبا میں نہ جاسکتے ہوں، ایک مسجد بنائی ہے۔آپ اس میں تشریف لاکر نماز ادا فرمائیں اور دعا کریں تو ان کے لئے برکت کا موجب ہو گا۔