توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 365 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 365

توہین رسالت کی سزا { 365 ) قتل نہیں ہے کر پھینک کیوں نہ دیا؟ آپ نے فرمایا : ”خدا نے مجھے محفوظ رکھا اور مجھے شفادے دی تو پھر میں اسے باہر پھینک کر لوگوں میں ایک بُری بات کا چر چاکیوں کرتا۔البتہ جادو کے مقام یعنی اس کنوئیں کو بند کر وا دیا گیا ہے “۔(بخاری کتاب الطب باب هل يستخرج السحر ) رسول اللہ صلی اللی یکم نے ان لوگوں کو بھی معاف کر دیا جو آپ کے خلاف ایسی ذلیل اور گندی حرکت کر کے خوفناک توہین کے مرتکب ہوئے تھے کہ گویا وہ جادو کے ذریعے آپ پر مسلط ہونے کے اعلان کر رہے تھے۔مگر انسانی خون کے محافظ اور رحمت مجسم صلی یکیم کے ظرف و حوصلے کی بے کنار وسعتوں کے ساتھ اس کے بے انتہاء عفو و بخشش کو بھی دیکھیں کہ ایسے ناقابلِ معافی جرم کے ارتکاب پر بھی اس شخص کو صاف معاف کر دیا تھا۔یہ مجرم ہر طرح سے آپ کے قبضہ و قدرت میں تھے اور آپ انہیں ایک جنبش شمشیر سے تہ تیغ کر سکتے تھے۔مگر آپ نہ کبھی ایسا کرتے تھے اور اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دیتے تھے۔آپ معفو اور عطا کے ذریعے ظلم و زیادتی کا بدلہ چکاتے تھے۔کاش ! وہ لوگ جو توہین کی سزا قتل قرار دیتے ہیں، اپنے ہاتھ سے تلوار پھینک کر اور اپنی آنکھوں میں اترے ہوئے خون کو صاف کر کے ذرا اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی للی کم کی رحمت و عفو کے ان واقعات کو بھی دیکھ لیں اور آپ کی طرف وہ ظلم منسوب نہ کریں جس کی روک تھام اور انسداد آپ کی بعثت کی ایک بڑی غرض تھی اور اس کے لئے آپ نے بار بار تاکیدی ارشاد فرمائے۔