توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 360
توہین رسالت کی سزا { 360 } قتل نہیں ہے 6 6 أَسْلَمْنَا“ کہ ہم مطیع ہوتے ہیں یا مسلمان ہوتے ہیں، کہنے کی بجائے ”صَبَانًا، صَبَانًا ،، کہا۔جس کا معنیٰ تھا کہ ہم صابی ہیں ہم صابی ہیں۔ان کے اس طرزِ اظہار سے حضرت خالد نے اندازہ لگایا کہ انہوں نے اطاعت قبول کرنے سے انکار کیا ہے۔لہذا ان سے جنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ان کے بہت سے افراد قتل ہوئے اور بہت سے قیدی بنائے گئے۔“ (بخاری کتاب المغازی سریۂ حضرت خالد بن ولید الی بنو جذیمہ ) حضرت عبد اللہ بن عمررؓ فرماتے ہیں۔مکہ پہنچ کر ؟ ہم نے آنحضرت صلی نی یکم کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا تو آپ نے بڑے ہی درد کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے اور دو مرتبہ خدا تعالیٰ کے حضور التجاكي: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِد“ اے اللہ ! جو کچھ خالد نے کیا میں اس سے برآت چاہتا ہوں۔(بخاری کتاب المغازی سریۂ حضرت خالد بن ولید الی بنو جذیمہ ) رسول اللہ صلی اللی کرم نے فورا حضرت علی کو بنو جذیمہ کی طرف روانہ فرمایا اور ان کے مقتولین کا خون بہا اور ان کے اموال کے نقصان کا پورا معاوضہ ادا فرمایا۔جب سب ادا ئیگی ہو چکی تو حضرت علی پوری تسلی اور تصدیق کرنے کے بعد وہاں سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے۔گلے پہنچ کر آپ کی خدمت میں تفصیل پیش کی تو آپ کو قدرے تسلی ہوئی۔لیکن ان لوگوں کے قتل کی وجہ سے جو زخم آپ کے دل کو پہنچ چکا تھا اس نے پھر کروٹ لی اور ایک بار پھر آپ کا دل افسوس سے بھر گیا۔آپ نے پھر ہاتھ اٹھائے اور خدا تعالیٰ کے حضور وہی التجا کی: ” اللَّهُمَّ إِنِّي ابْرَأُ الَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ “اے اللہ !جو کچھ خالد نے کیا میں اس سے بر آت چاہتا ہوں۔یہ التجا آپ نے تین بار دوہرائی۔(طبری 8ھ وزرقانی بعث حضرت خالد بن ولید بطرف بنو جذیمہ و ابنِ سعد سریۃ خالد بن ولید الی بنی جذیمة)