توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 361 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 361

توہین رسالت کی سزا 361 } قتل نہیں ہے یہ حالت تھی ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی ال نیم کی کہ آپ اپنے سینے میں کسی کے قتل سے کس قدر دکھ محسوس کرتے تھے کہ تڑپ اٹھتے تھے۔آپ تو لوگوں کو ہلاکتوں سے محفوظ رکھنے کے لئے امن و سلامتی کی طرف بلاتے تھے۔اگر کسی کا قتل ہو جاتا تو بیتاب ہو جاتے تھے۔پس آپ پر ایسا الزام قائم کرنا کہ محض توہین کی وجہ سے یا گستاخی کے باعث آپ لوگوں کو قتل کرواتے تھے، آپ پر کھلا کھلا الزام ہے۔یہاں ارباب فہم و دانش خود فیصلہ کریں کہ قرآن کریم کے یہ ارشادات، آنحضرت صلی للی کمر کا یہ سوہ حسنہ اور آپ کے صحابہ کی یہ سنت واجب التعمیل اور اسلام کا دستور العمل ہے یا نام نہاد فقہاء یا علماء کی یہ ہدایت کہ شاتم رسول کو قتل کرو، اس کا جرم نا قابل معافی اور اس کی سب وشتم نا قابل تلافی ہے۔مذکورہ بالا واقعات کی شہادت کی بنیاد پر ہر سچا محب رسول یہی گواہی دے گا کہ خدا کی قسم! میرے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی للی ریم کے ہاتھ ایسے خون سے کلیہ بری اور پاک وصاف ہیں۔آپ نے کبھی بھی اور اپنی زندگی کے کسی دور میں بھی کسی کو اپنی توہین کی وجہ سے قتل نہیں کروایا۔یہ مذکورہ بالا تمام واقعات یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں ایک واقعہ بلکہ ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا کہ آپ نے کسی سے اپنی ذات کے لئے انتقام لیا ہو۔تو پھر یہ یقینی بات ہے کہ وہ مجموعہ کروایات جو قائلین قتل شاتم پیش کرتے ہیں لاز ما وضعی اور جھوٹا ہے یا اگر کوئی صحیح روایت تھی تو اس سے استدلال جھوٹا پیش کیا گیا ہے۔دنیا میں تو تعداد یا وزن بھی عدل و انصاف کے اصولوں میں سے ایک اصول ہے۔یعنی جس گروہ کی تعداد زیادہ ہو وہ کم تعداد پر بھاری ہوتا ہے۔اسی طرح اگر ترازو کا ایک پلڑا ایک طرف جھکتا ہو تو اس پلڑے کو بھاری قرار دیا جاتا ہے۔خواہ وہ ایک رتی برابر بھی بھاری ہو۔مگر یہاں رسول اللہ صلی یی کم یا عفو و کرم اور لطف ورحم سو