توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 356
توہین رسالت کی سزا 356 } قتل نہیں ہے بھی معافی کی درخواست کی، آپ نے اسے معاف فرما دیا۔جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ صرف چار افراد ایسے بد قسمت ثابت ہوئے جو سایہ معفو میں آنے سے محروم رہے اور قرار واقعی سزا کے مستحق ٹھہر گئے۔یہ سب وہ تھے جو حسب ذیل حکم الہی کے تحت سزا یافتہ قرار پائے تھے۔إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَاداً أَن يُقَتَلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا و وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ( المائده: 34،35) ترجمہ : یقیناً ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں ، یہ ہے کہ انہیں سختی سے قتل کیا جائے یا دار پر چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں دیں نکالا دے دیا جائے۔یہ ان کے لئے دنیا میں ذلت اور رسوائی کا سامان ہے اور آخرت میں تو ان کے لئے بڑا عذاب ( قدر) ہے۔سوائے ان لوگوں کے جو اس سے پیشتر تو بہ کر لیں کہ تم ان پر غالب آجاؤ۔پس جان لو کہ اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔اس حکم الہی میں ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ ”سوائے ان لوگوں کے جو اس سے پیشتر توبہ کر لیں کہ تم ان پر غالب آ جاؤ۔پس جان لو کہ اللہ بہت بخشنے والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔“ چنانچہ رسول اللہ صلی علی کم کا عمل اس حکم الہی کے عین مطابق تھا اور جو آپ تک پہنچ کر معافی کے طلبگار ہوتے تھے ، آپ انہی کو معاف کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔آپ نے اس حکم الہی پر کمال عفو و کرم کے ساتھ عمل فرمایا۔یعنی ان سزا یافتہ افراد میں سے جو کسی کے قابو آجانے سے پہلے پہلے آپ کے پاس پہنچ گئے، آپ نے انہیں بالکل معاف کر دیا۔