توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 322 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 322

توہین رسالت کی سزا 322 | قتل نہیں ہے شدید ترین ظلموں پر صبر و برداشت: ملہ کے رؤوساء نے ایک فیصلے کے مطابق سال 7 نبوی میں رسول اللہ صلی ای کمر کو اور آپ کے متبعین کو ایک درہ نما گھائی شعب ابی طالب میں اڑھائی تین سال کے لئے محصور کر دیا۔باہر سے کسی قسم کی مدد پر بھی سخت پہرے لگا دیئے اور آپ کو کلیہ تمدنی زندگی سے منقطع کر دیا۔اس سارے عرصہ میں مردوں، عورتوں اور بچوں نے جس شدت بھوک و پیاس میں اپنے شب و روز بسر کئے ، ان کی دل دہلا دینے والی داستا نہیں ہیں۔مگر آپ اور آپ کے صحابہ نے جس صبر واصطبار سے یہ سب کچھ برداشت کیا اور رؤوسائے قریش کے فیصلے کے آگے کوئی جارحیت نہیں کی۔صبر واستقامت کی یہ داستان تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔رسول اللہ صل اللی کم کا یہ اسوہ آپ کے صلح بجو اور امن و امان کے قیام کے لئے ایک عظیم رہنما اسوہ ہے۔آپ نے ان ظلم کرنے والوں پر بعد ازاں تسلط پانے کے بعد بھی کوئی سز او غیر ہ مقرر نہیں فرمائی۔پس ایسی عظیم الشان اور غیر معمولی صبر اور برداشت کرنے والی ہستی کی طرف کشت وخون کی تعلیم منسوب کرنا ظلم عظیم ہے بلکہ بذاتِ خود آپ کی توہین کا ارتکاب ہے۔سب سے بڑے گستاخ پر بھی عفو و شفقت: آنحضرت صلی ا ظلم کی مدینے میں آمد پر قبائل اوس اور خزرج کی اکثریت آپ پر متفقہ ایمان لے آئی۔عبد اللہ بن اُبی بن سلول جو قبیلہ خزرج کا ایک نامور لیڈر تھا۔اس میں اتنی جرات نہیں تھی کہ کھل کر آپ کی مخالفت کرتا۔لیکن وہ اپنے حسد اور بغض کی وجہ سے ہمیشہ خفیہ طور پر آپ کو نقصان پہنچانے کی سازشیں کرتا رہا۔وہ غزوہ بدر کے بعد اپنی منافقت کی وجہ سے بظاہر مسلمان بھی ہو گیا۔