توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 323 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 323

توہین رسالت کی سزا { 323 ) قتل نہیں ہے ت صلی علی ایم کی مدینے ہجرت پر قریش مکہ نے عبد اللہ بن ابی اور دیگر رؤسائے مدینہ کے نام تہدیدی خط لکھا تو یہ آپ سے لڑنے کے لئے تیار ہو گیا لیکن آپ کے سمجھانے پر بظاہر اس کا غصہ تو وقتی طور پر دب گیا مگر اندر بغض اور کینہ قائم رہا۔وہ غزوہ اُحد کے موقع پر آنحضرت صلی کی کمی کے ساتھ نکلا تو سہی مگر اپنے تین سو ساتھیوں سمیت راستہ سے ہی واپس لوٹ آیا اور پھر اس نے بعد میں مسلمانوں کے جانی اور مالی نقصان پر آپ کو طعنے بھی دیئے۔اس نے یہود مدینہ کے قبائل سے متعدد مواقع پر خفیہ گٹھ جوڑ کر کے اسلام کے خلاف سازشیں تیار کیں۔غزوہ احزاب پر اس کی سازش کھل کر سامنے آئی۔اس نے حضرت زینب بنت جحش کی شادی کے موقع پر آنحضرت صلی ال یکم کو بدنام کرنے کی با قاعدہ سازش تیار کی اور کئی افتراء تراشے۔اس نے غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر انصار اور مہاجرین کو لڑانے کی کوشش کی۔اسی غزوے سے واپسی پر حضرت عائشہ پر گھناؤنا الزام تراشا گیا اور مدینے میں اس کی تشہیر کی گئی۔اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی میں اس شخص کو " الَّذِی تَوَلَّى كِبُرُه “ یعنی اس فتنے کا سرغنہ قرار دیا۔اس نے غزوہ تبوک کے موقعے پر صحابہ کی مالی قربانیوں پر طعن کئے۔صحابہ میں خوف و ہر اس پھیلانے کی کارروائیاں کیں۔غزوہ میں شمولیت سے انکار کیا اور واپسی پر آنحضرت صلی ایم کے قتل کی سازش بھی تیار کی۔