توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 321 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 321

توہین رسالت کی سزا زیادتی کرنے والوں پر بھی سایہ تر تم : ( 321 ) قتل نہیں ہے روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک بدو نے آپ کے سامنے دستِ سوال دراز کرتے ہوئے بد تمیزی کے ساتھ آپ کی چادر کو ایسے زور کے ساتھ کھینچا کہ اس کی رگڑ سے آپ کی گردنِ مبارک پر نشان آگیا۔وہ ساتھ ہی گستاخ لہجے میں کہنے لگا کہ اسے اللہ تعالیٰ کے اس مال سے عطا کیا جائے جو آپ کے پاس پڑا ہے۔آپ نے باوجود اس پر قدرت اور طاقت رکھنے کے نہ صرف یہ کہ اس گستاخی پر حلم و بردباری دکھائی بلکہ اس کی مالی مدد کے لئے بھی ارشاد فرمایا۔( بخاری کتاب النفقات و کتاب اللباس باب البرد) آپ کی زندگی کا لمحہ لمحہ گواہ ہے کہ کوئی آپ سے زیادتی یابد کلامی کرتا تو آپ اس سے عفو و در گزر کرتے اور اسے کسی قسم کا ضرر نہ پہنچنے دیتے تھے۔چنانچہ مذکورہ بالا واقعہ کی نوع کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک یہودی زید بن سعنہ نے آپ کو کچھ قرض دیا اور جلد ہی بڑی گستاخی سے آپ کے کندھے سے چادر کھینچتے ہوئے اس کی واپسی کا مطالبہ کیا۔صحابہ میں سے بعض اس پر سختی کرنا چاہتے تھے مگر آپ نے انہیں روک دیا۔آپ کا یہی عفو و کرم اس کی ہدایت کا موجب بنا۔(مستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابة ذکر اسلام زید بن سعنہ ) یہ رحیم و کریم اور سراپا عفو و رافت ذات ہے جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ آپ گستاخی کرنے والے کو قتل کروا دیتے تھے۔آپ کے رحم و کرم اور لطف و عنایات کے ایسے واقعات روز و شب رونما ہوتے تھے۔یہ آپ کی زندگی کا جزوِ لازم تھے۔مگر ان سے بھی زیادہ لازمی جزو آپ کی پاک سیرت کا یہ تھا کہ عفو و دعا کے ہر واقعے کے ہمراہ آپ کی بخشش وسخا بھی بے انتہاء تھی۔