توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 320 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 320

توہین رسالت کی سزا 320 | قتل نہیں ہے عطا فرمائیں، اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کا لباس عطا کرے گا۔اس پر آپ نے وہ (نئی ) قمیص اسے عطا کر دی۔بعد ازاں آپ پھر دوکان پر آئے اور چار درہم میں ایک اور قمیص خرید لی۔اب آپ کے پاس دو در ہم باقی تھے۔اتنے میں آپ نے دیکھا کہ راستے میں ایک غلام بچی رور ہی ہے۔آپ نے اس سے دریافت فرمایا کہ وہ کیوں روتی ہے ؟ اس نے عرض کی: یارسول اللہ ! مجھے میرے مالک نے دو در ہم دیئے تھے کہ میں ان کے لئے آٹا خرید لاؤں مگر وہ دونوں در ہم گم ہو گئے ہیں۔رسول اللہ صلی الم نے اسے باقی ماندہ دو در ہم عطا کر دیئے۔وہ یہ لے کر بھی رور ہی تھی۔آپ نے اسے پوچھا کہ وہ اب کیوں روتی ہے جبکہ اسے دو درہم مل چکے ہیں ؟ اس نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے پیٹیں گے۔اس پر آپ اس کے ساتھ اس کے گھر گئے۔آپ نے انہیں سلام کہا۔پھر دوبارہ سلام کہا۔پھر سہ بارہ سلام کہا۔اس پر انہوں نے سلام کا جواب دیا۔آپ نے پوچھا کہ کیا انہوں نے آپ کا پہلا سلام سن لیا تھا؟ انہوں نے کہا: ”جی۔مگر ہم چاہتے تھے کہ آپ ہمیں زیادہ سے زیادہ سلام پہنچائیں۔“ انہوں نے پوچھا:” یارسول اللہ ! آپ پر ہمارے ماں باپ قربان جائیں، آپ نے یہاں آنے کی تکلیف کیوں فرمائی ہے۔“ آپ نے فرمایا کہ یہ بچی ڈرتی تھی کہ آپ اسے پیٹیں گے۔اس پر اس کے مالک نے کہا کہ آپ اس بچی کے ساتھ تشریف لائے ہیں تو آج سے یہ خدائے عز و جل کی رضا کی خاطر آزاد ہے۔رسول اللہ صلی علیکم نے انہیں خیر کی اور جنت کی بشارت دی۔پھر آپ نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے دس ( درہموں) میں ایسی برکت رکھی کہ اپنے نبی کو بھی قمیص پہنائی، ایک انصاری کو بھی قمیص پہنائی اور اس کے ذریعے ایک گردن بھی آزاد کر دی۔فالحمد للہ کہ یہ سب اس نے ہمیں اپنی قدرت سے عطا فرمایا۔“(المعجم الکبیر از طبرانی۔جلد 12 صفحہ 441,442 دار السمع ریاض و تاریخ مدینتہ الدمشق از ابن عساکر جلد 4 صفحہ 89 دار لفکر بیروت) یہ ہے وہ گر از دل اور ہر حال میں انسان کے لئے سکھ چاہنے والا دل جس پر آج کا انسان یہ الزام لگاتا ہے کہ وہ لوگوں کو قتل کرواتا تھا اور قتل پر خوش ہو تا تھا۔اناللہ وانا الیہ راجعون