توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 319
توہین رسالت کی سزا 319 قتل نہیں ہے ایسا نرم خو اور ہر کس و ناکس پر دامن تر تم دراز کرنے والا وسیع الظرف رحیم و کریم انسان کس طرح کسی کو صرف اس لئے قتل کر سکتا ہے کہ وہ اسے گالی دیتا ہے۔آپ تو مجسم عفو و در گزر تھے اور معاف کر دینا آپ کا عام اور مستقل عمل تھا۔یہ آپ کا فطرتی عمل بھی تھا اور آپ کی مستقل تعلیم بھی یہی تھی۔آپ کا مضرور تم عام تھا جس کی تجلی ہر ایک پر یکساں تھی۔گالی کے بارے میں تو آپ بڑی وضاحت سے فرما چکے تھے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے محمد بنایا ہے مصلی کریں تو کسی کے مذمم کہنے سے آپ کو کس طرح فرق پڑ سکتا ہے؟ روایات صحیحہ شاہد ہیں کہ ہر ایسے واقعے پر آپ ہمیشہ کمال تحمل اور بردباری دکھاتے تھے۔یعنی رد عمل میں آپ کا تحمل وبر دباری اور عفو گالی گلوچ کے اثر سے کہیں اور کئی گنا بڑھ کر ہوتا تھا۔جس کے نتیجے میں اس بد زبانی اور ہرزہ سرائی کا اثر وہیں اور اسی وقت دب کر رہ جاتا تھا جیسا کہ ”اَلسّامُ عَلَيْكَ “ والا واقعہ اور اسی نوع کے دیگر واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں۔پس اس قدر وسیع قلب و جگر والے انسان پر یہ تہمت لگانا کہ وہ گالی پر ایسا بھڑکتا تھا کہ قتل کروا کر ہی سکون میں آتا تھا، انتہائی شرمناک ظلم ہے۔پھر اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ یہ ظلم آپ کی طرف منسوب ہونے والے۔” اپنے ہی دوست“ روا رکھتے ہیں۔بے کسوں کا والی: حضرت عبد اللہ بن عمر بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی نیم کے پاس دس درہم تھے۔آپ نے ایک کپڑے بیچنے والے سے چار درہم کی قمیص خریدی اور کہنا لی۔راستے میں آپ کو ایک انصاری ملا۔اس نے آپ سے عرض کی کہ اس کے پاس قمیص نہیں ہے۔آپ اسے قمیص