توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 318 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 318

توہین رسالت کی سزا 318} قتل نہیں ہے سکتا۔(اسد الغابہ و ابن ہشام اسلام زید بن حارثہ الجزء الاول صفحہ 181 ناشر المکتبۃ التوفیقیۃ الازھر) اور ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔آپ کے ایسے ہی اوصاف کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ آپ نے کبھی کسی کو مارا نہیں تھا نہ کسی عورت کو نہ خادم کو۔(مسلم کتاب الفضائل باب مباعد نہ گلاثام۔۔۔۔) حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی علیم کی خدمت میں دس سال گزارے۔اس پورے عرصے میں آپ میرے متعلق کوئی ناپسند بات زبان پر نہ لائے۔نہ آپ نے کبھی یہ فرمایا کہ فلاں کام کیوں کیا اور نہ یہ فرمایا کہ فلاں کام کیوں نہ کیا۔( بخاری کتاب الادب باب حسن الخلق و السخا) حضرت خدیجہ کے بیٹے ہند رسول اللہ صلی علیم کے زیر تربیت رہے تھے۔ان کا بیان ہے کہ آپ دنیا اور اس کے معاملات کی خاطر کبھی ناراض نہ ہوتے تھے ، نہ ہی آپ اپنی ذات کی خاطر کبھی غصے ہوئے نہ ہی کبھی بدلہ لیا۔(شمائل ترمذی باب ماجاء فی کلام رسول اللہ علی تیری) آپ نے کبھی بھی فحش کلامی نہیں کی۔( بخاری کتاب الادب باب حسن الخلق والسخا) آپ یتیموں کی کفالت کے لئے انتہائی درد رکھتے تھے۔بیواؤں کے لئے بیحد فکر مند رہتے تھے۔بے کسوں پر آپ کا دامن رحمت بارش بھرے بادل کی طرح سایہ فگن تھا۔چنانچہ روایت ہے کہ ایک صحابی اپنے غلام کو پیٹ رہے تھے۔عقب سے یہ آواز آئی کہ خدا تم پر اس سے زیادہ اختیار اور قدرت رکھتا ہے۔اس صحابی نے مُڑ کر دیکھا تو خو درسول اللہ صلی ای کم تھے۔عرض کی: یا رسول اللہ ! میں نے اسے اللہ کی خاطر آزاد کر دیا ہے۔فرمایا: ” اگر تم ایسا نہ کرتے تو آتش دوزخ تمہیں چھو لیتی۔“ (ابو داؤد کتاب الادب باب فی حق الملوک)