توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 317
توہین رسالت کی سزا 317} قتل نہیں ہے رحم و کرم ، ہمدردی اور حلم کے خمیر سے اٹھائی گئی تھی۔آپ کی تمام زندگی اسی حلم، ہمدردی اور لطف و کرم پر قائم تھی۔محبتم حيا: رسول اللہ صلی علیکم کے صحابہ بتاتے ہیں: ” آپ پر دہ نشین حیادار کنواری سے بھی زیادہ حیار کھتے تھے۔جب کوئی چیز آپ کو نا پسند ہوتی تو آپ کے چہرے کے آثار سے ہم آپ کی قلبی کیفیت کو پہچان لیتے تھے۔“ (بخاری کتاب المناقب باب فی صفتہ النبی صل الليل ) اس مزاج اور فطرت والے وجود کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ جب تک کسی شاتم کو قتل نہ کر الیتا تھا اسے چین نہ آتا تھا۔وہ قتل کرنے والے کو شاباش دیتا تھا وغیرہ وغیرہ، یہ کسی دشمن کا کہناتو ہو سکتا ہے، آپ کے سچے محب کا کہنا نہیں ہو سکتا۔غلاموں، یتیموں، بے کسوں اور خادموں پر شد نبوت سے قبل آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ نے اپنا ایک غلام زید بن حارثہ آپ کے سپر د کر دیا تھا۔آپ نے اس کے ساتھ ایسی محبت و شفقت فرمائی کہ اسے اپنا متبنی بنالیا۔اس سے آپ کی محبت کا یہ عالم تھا کہ اس کے والد اور چچا جب اس کی تلاش میں پوچھتے بچھاتے ملے آگئے۔جب انہوں نے اسے ساتھ لے جانے کا اظہار کیا تو باوجود آپ کی اجازت کے اس نے اپنے سگے والد اور چچا کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ آپ میرے لئے چچا اور والد سے بڑھ کر ہیں۔اس پر زید کا باپ غصے میں بولا کہ کیا تو غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتا ہے۔زید نے کہا: ”ہاں! کیونکہ میں نے ان میں ایسی خوبیاں دیکھی ہیں کہ اب میں کسی کو ان پر ترجیح نہیں دے