توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 291
توہین رسالت کی سزا ( 291 } قتل نہیں ہے صرف مخصوص مقاصد کے لئے محبوب تھے اور آج بھی بغیر کسی تحقیق کے محض اپنے ایسے ہی مقاصد کے حصول کے لئے ان کا نام گھسیٹا جاتا ہے۔جیسا کہ اوپر کی سطور سے ظاہر ہے کہ ابن سحنون کے بعد سپین کے قاضی عیاض اجماع کی اس نام نہاد پگڈنڈی پر چلتے دکھائی دیتے ہیں۔قاضی عیاض، ابنِ سحنون کے تقریباً دو اڑھائی سو سال بعد یعنی چوتھی صدی ہجری میں ہوئے ہیں۔انہوں نے رسول اللہ صلی للی کم کی سیرت اور آپ کے اخلاق و شمائل پر بہت خوبصورت کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفی صلی للی مرتب کی مگر افسوس ہے کہ اس کے آخری باب میں قتل شاتم کے خوفناک مسئلے کو ثابت کرنے کی کوشش میں ساری کتاب کے حسن کو داغدار کر دیا ہے۔پھر قاضی عیاض کے تقریباً دو سو سال بعد امام ابن تیمیہ کا زمانہ ہے۔یعنی چھٹی صدی ہجری۔ان کی طرف منسوب کتاب "الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں اس پگڈنڈی کو اختیار کیا گیا ہے۔شتم رسول کی سزا قتل ثابت کرنے کے لئے یہ ایک بڑی مفصل اور ضخیم کتاب لکھی گئی ہے۔پھر ان کے بعد مختلف لوگوں نے انہی مذکورہ بالا دونوں کتابوں سے خوشہ چینی کی ہے۔متاخرین نے کوئی نئی تحقیق یانئی بات نہیں لکھی۔مگر ہر ایک نے یہ دعویٰ ضرور کیا ہے کہ امت کا اس مسئلے پر اجماع ہے۔اس اجماع کی حقیقت: یہ درست ہے کہ بعض فقہاء یا علماء نے اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے کہ شاتم رسول کی سزا قتل ہے۔چنانچہ ان کی آراء کو جمہور کا مسلک یا علماء کا اجماع قرار دے دیا جاتا ہے۔یہاں یہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ تصنیفات میں یہ نظر آتا ہے کہ فقہاء کا ایک عام طریق یہ بھی ہے کہ وہ