توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 292
توہین رسالت کی سزا 292 قتل نہیں ہے دوسری آراء بھی درج کرتے ہیں جبکہ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ان کا اس رائے پر یا اس زیر بحث مسئلے پر اتفاق بھی ہو۔چنانچہ وہ اس کے ساتھ اپنی تحقیق یا دلیل پیش نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اسے اپنا موقف قرار دیتے ہیں۔مگر ایک قاری اپنے مسلک یا نظریے کے مطابق اسے ان کا موقف قرار دے دیتا ہے۔یہی مذکورہ بالا طریق ہمیں روایات کے اخذ کرنے میں بھی نظر آتا ہے۔جیسا کہ قبل ازیں مولانا عبد الحئی لکھنوی کی کتاب ”الرفع والتکمیل“ کے حوالے سے ذکر ہو چکا ہے کہ امام بخاری نے بعض ایسے راویوں سے بھی روایات لے لی ہیں جن پر پہلوں نے طعن کئے ہوئے ہیں۔چنانچہ امام بخاری نے ایک دفعہ جو روایت درج کر لی، بعد میں اسے نقل کرنے والوں نے بغیر کسی دلیل اور تحقیق کے اپنے مجموعوں یا تصنیفات میں درج کر لیا ہے۔بعینہ نظر آتا ہے کہ بعض فقہی مسائل یا فتاوای کوکتاب الشفاء" یا کتاب ”الصارم المسلول۔۔۔۔۔۔۔وغيره تصنیفات میں بھی جمع کر دیا گیا ہے اور اس فتوے یا مسئلے کی کچھ متعلقہ یا غیر متعلقہ وجوہات بیان کر دی ہیں اور اسی کو اجماع قرار دے دیا گیا ہے۔حالانکہ وہ کسی طرح بھی شرعی لحاظ سے یا شرعی اصطلاح کے مطابق اجماع نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ دراصل یہ تقلیدی طور پر ایک دوسرے کی آراء پر بعض لوگوں کا اتفاق ہے ، امت کا اجماع ہر گز نہیں ہے۔پس یہ کہنا کہ رسول اللہ صلی الی نظم کو گالی دینے والے کی سزائے قتل پر امت کا اجماع ہے ، درست نہیں ہے۔ہاں اسے معدودے چند علماء کا کسی رائے پر تقلیدی اتفاق تو کہا جاسکتا ہے ، اجماع قرار نہیں دیا جا سکتا۔قتل شاتم پر لکھی گئی کتب میں چاروں مسلکوں کے علماء کے اتفاق کا ذکر بار بار کیا گیا ہے۔لیکن اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے کہ ان میں بعض علماء بالکل غیر معروف و غیر مشہور ہیں جن کا کوئی معتین ذکر معلوم نہیں ہے۔ان علماء کی حیثیت کیا تھی اور ان کا مقام کیا تھا