توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 290
توہین رسالت کی سزا 290 | قتل نہیں ہے قاضی عیاض نے شاتم رسول کے قتل کے فتاوی اور مختلف مسالک کے فقہاء کی جو تحریریں یا اقوال جمع کئے ہیں یا ان کی طرف منسوب کئے ہیں ، وہ انہیں اس نظریے کی تقویت کے لئے بار بار استعمال کرتے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کا ایسا کرنا اس مخصوص نظریے کو کسی طور بھی سچا ثابت نہیں کر سکتا۔کیونکہ وہ تحریریں یا اقوال بنیادی طور پر قرآن کریم، سنت نبوی اور سیرت و شمائل نبوی صلی للہ ہم کے کلیہ مخالف اور متصادم ہیں۔مخصوص محرکات ، منظر اور پس منظر میں ان فقہاء وعلماء کے دیئے گئے فتووں سے کسی طرح بھی شریعت نہیں بدل سکتی۔ابن سحنون کی طرف منسوب فتوے اگر ایک لمحے کے لئے ان کے اپنے فتوے تسلیم بھی کر لئے جائیں تو بھی ابن سحنون کو بعض لوگوں کی طرف سے دیا گیا مقام یا ان کی اپنی تصنیفی خدمات انہیں شارع تو نہیں بنا سکتیں۔اسی طرح بعض مخصوص مسلک کے علماء کا نام نہاد اجماع شریعت میں تبدیلی پیدا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔پھر یہ بھی ایک الگ بحث ہے کہ ابن سحنون خو د مالکی مسلک کے ہیں۔ان کے فتوے یا تحریریں دوسرے مسالک کے لئے کیونکر قابل عمل قرار دیئے جاسکتے ہیں اور وہ کیوں ان کے لئے حجت ٹھہرا دیئے گئے ہیں۔صاف ظاہر ہے کہ چونکہ مذہب کی آڑ میں قتل و خون مقصود تھا، اس لئے ان کے فتووں کو باوجو د اختلاف مسلک کے اس ذہنیت کے علماء نے اختیار کیا اور ان سے حجت لی۔اس خاص موضوع کے علاوہ ابن سحنون کا نام عام طور پر کسی مسئلے میں کہیں ایسے مقام کے طور پر نظر نہیں آتا کہ وہ ایسے عالم یا امام قرار پائے گئے ہوں کہ ان کے فتوے اہمیت کے ساتھ حجت سمجھے گئے ہوں۔ویسے بھی وہ کوئی ایسے قابل تقلید امام نہیں تھے۔پس صاف ظاہر ہے کہ ابن سحنون کا نام اور ان کی طرف منسوب کئے گئے نظریات ایک خاص مکتبہ فکر کے لوگوں کو