توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 288
توہین رسالت کی سزا 288 | محل نہیں ہے یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ کبھی تھی بھی یا نہیں۔بہر حال یہ ان کی طرف منسوبہ کتب کی فہرست میں شامل ہے۔محمد بن سحنون کی ان مزعومہ یا ان کی طرف منسوب دو صد کتب میں سے جر من محقق ڈاکٹر سبستیان گوئینتھر (Dr Sabestian Guenther) کے مطابق چوبیس (24) کتب کے بارے میں خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ ان کی ہیں۔لیکن ان میں سے صرف تین (3) ہیں جو محفوظ ہیں۔وہ اپنے تحقیقی مقالے "Advice for Teachers" میں لکھتے ہیں کہ ابن سحنون کی صرف ایک کتاب یعنی "کتاب آداب امعلمین" ہے جو اُن کی اپنی تصنیف قرار دی جا سکتی ہے۔یہ مذکورہ بالا کتاب فتووں کی کتاب نہیں ہے بلکہ اس میں اساتذہ و معلمین کو تعلیم و تدریس کے آداب و طریق بتائے گئے ہیں۔جہاں تک دوسری کتاب ” فتاوی ابن سحنون“ کا تعلق ہے تو یہ ان کی اپنی تصنیف نہیں ہے بلکہ بعد میں مختلف لوگوں نے فتاویٰ جمع کئے ہیں اور اس مجموعے کو ان کی طرف منسوب کیا ہے۔اس میں عام دینی اور فقہی مسائل مذکور ہیں۔توہین و تنقیص النبی پر کوئی بحث موجود نہیں ہے۔تیسری کتاب ”کتاب الاجوبہ “ ہے۔یہ کتاب سوالات و جوابات کی طرز پر مرتب کی گئی ہے۔اس میں بھی توہین و تنقیص النبی پر کوئی سوال و جواب نہیں ہے۔یہ بھی ابن سحنون کی اپنی تأکیف نہیں ہے۔بلکہ کہا جاتا ہے کہ ان کے ایک شاگر د محمد سالم نے ترتیب دی ہے اور اس میں دوسروں نے بھی اضافے کئے ہیں۔