توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 289 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 289

توہین رسالت کی سزا 289 H قتل نہیں ہے ان کتابوں کے بارے میں مالکی فقہ کے عالم امام ابو العباس احمد بن عبد العزیز الہلالی المالکی المغربی اپنی کتاب ” نور البصر“ میں لکھتے ہیں: ” وَقَدْ حَذَرَ الْعُلَمَاءُ مِنْ تَأْلِيْفٍ مَوْجُوْدَةٍ بِأَيْدِى النَّاسِ تُنْسَبُ إِلَى الْاَبِيَّةِ، وَنِسْبَتُهَا بَاطِلَةٌ کہ علماء نے لوگوں کو ان کے پاس موجود تالیفات سے خبر دار کیا ہے جو ائمہ کی طرف منسوب ہوتی ہیں اور حال یہ ہے کہ وہ (ان ائمہ کی طرف) باطل طور پر منسوب ہیں۔(نور البصر فی شرح خطبة المختصر صفحہ 130 دار یوسف بن تاشفین۔مكتبه امام مالک) امام المحجوی کتاب ” الفکر الشامی“ میں لکھتے ہیں: وَ حَذَرُوا مِنْ أَجْوِبَةِ مُحَمَّدِ بْنِ سَحْنُونَ ، فَلَا تَجُوزُ الفَتْوَى مِنْهَا بِوَجْهِ مِنَ الْوَجْه ، کہ انہوں نے محمد بن سحنون کی ( طرف منسوب) کتاب الاجوبہ سے خبر دار کیا ہے کہ ایک وجہ سے اس سے فتوای ( لینا) جائز نہیں۔الفکر التسامی فی تاریخ الفقہ الاسلامی۔محمد بن الحسن الحجوى الثعالبی۔المكتب التوفيقي ونور البصر صفحہ 130) یہ مذکورہ بالا حقائق انٹر نیٹ پر ملاحظہ کئے جاسکتے ہیں۔ان حقائق کے تناظر میں آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بنیاد جو محمد بن سحنون کے فتاوی پر قائم کی گئی تھی بالکل کمزور اور بے اعتبار بنیاد ہے۔ایسی بنیادوں پر تو دم بھر کے لئے ریت کے گھروندے بھی نہیں ٹھہر تے کجا یہ کہ ان پر بنیادی مذہبی عقائد کو استوار کیا جائے۔قتل شاتم کے بارے میں دستیاب کتب سے معلوم ہو تا ہے کہ ابن سحنون کے حوالے وو سب سے پہلے سپین کے قاضی عیاض نے اپنی کتاب ” الشفا“ میں دیئے ہیں۔انہوں نے یہ حوالے درج کرتے ہوئے ان کی درایت یا ان کے استناد کی کوئی فکر نہیں کی۔انہوں نے ابن سحنون کی کسی کتاب کا بھی کوئی حوالہ نہیں دیا۔وہ علمی تحقیق کا حق ادا کئے بغیر انہیں درج کرتے چلے گئے ہیں۔یعنی یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ وہ محض بے سند اور لا پتہ عبارتیں ہیں۔