توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 268 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 268

توہین رسالت کی سزا 268 | قتل نہیں ہے قرآن کریم کو گالیاں: إِذَا سَمِعَهُ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ “ (بخاری کتاب تفسیر القرآن، باب لا تجبر بصلاتك ولا تخافت بہا) کہ مشرک جب قرآن کریم کی تلاوت سنتے تو اسے گالیاں دیتے تھے۔شریعت نے نزول کے اعتبار سے قرآن کریم اور رسول کریم صلی ال یکم کا ایک ہی معاملہ قرار دیا ہے۔الصارم۔۔۔۔اور اس نوع کی کتابوں میں آپ کی توہین و تنقیص اور سب و شتم کے مسئلے پر بیحد زور دیا گیا ہے مگر جو قرآن کریم کو گالی دیتا ہے ، ان کتب میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔اس کے لئے کسی غیرت کا اظہار نہیں ہے۔حالانکہ قرآن کریم کے گستاخ کو بھی ویسی ہی سزا کا مستحق ہونا چاہئے۔جبکہ اسے بالکل مس بھی نہیں کیا گیا۔حالانکہ جرم ایک ہی ہے۔کیونکہ آیت کریمہ وَإِذَا قِيْلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاء هُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقاً لِمَا مَعَهُم “ (البقرہ :92) یہ آیت بتاتی ہے کہ جن دلائل و وجوہ سے رسول اللہ صلی للی علم پر ایمان لازم ہے، انہی دلائل و وجوہ سے قرآن کریم پر ایمان لازم ہے۔دونوں ނ ہی اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوئے ہیں۔لہذا اگر ان دلائل کا انکار کریں تو اسلام ہی ہاتھ۔نکل جاتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس پر ایمان لے آؤ جو اللہ نے نازل کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں جو ہم پر اتارا گیا جبکہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں جو اس کے علاوہ اتارا گیا) ہے۔حالانکہ وہ حق ہے جو اس کی تصدیق کر رہا ہے جو ان کے پاس ہے۔“ پس دلیل کی مساوات پر مدلول کی مساوات ماننی لازمی ہے۔یعنی اگر رسول اللہ صلی الی یوم پر سب کی سزا قتل تھی تو قرآن کریم پر سب کی سزا بھی وہی ہے کیونکہ نزول کے اعتبار سے