توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 269 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 269

توہین رسالت کی سزا { 269 | قتل نہیں ہے دونوں میں مساوات ہے۔اسی وجہ سے روایات صحیحہ میں کسی جگہ بھی رسول اللہ صلی للی نام کے شاتم اور قرآن کریم پر ست کرنے والے کے قتل کا کوئی واقعہ درج نہیں ہوا۔معلوم ہوتا ہے کہ شاتم رسول کے قتل کے واقعات وضع کرنے والے قرآن کریم کے مسئلے سے غافل رہ گئے تھے، اس لئے اس بارے میں روایات نہ گھڑی گئیں۔ورنہ رسول اللہ صلیالی کم اور قرآن کریم کی توہین کا مسئلہ ایک ہی تھا۔امتی باعث رسوائی پیغمبر ہیں“: كتاب الصارم۔۔۔۔۔میں لکھا ہے: "قَدْ قَدِمْنَا أَنَّ النَّبِيَّ على الله كَانَ يَسْمَعُ مِنَ الْكُفَّارِ وَالْمُنَافِقِيْنَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ أَذًى كَثِيرًا، وَكَانَ يَصْبِرُ عَلَيْهِ امْتِثَالًا لِقَوْلِهِ تَعَالَى (وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ ) ( سورة الاحزاب : 49) لِأَنَّ إِقَامَةَ الْحُدُودِ عَلَيْهِمْ كَانَ يُفْضِي إِلَى فِتْنَةٍ عَظِيمَةٍ وَ مُفْسِدَةٍ أَعْظَمُ مِنْ مُفْسِدَةِ الصَّبْرِ عَلَى كَلِمَاتِهِمْ - فَلَمَّا فَتَحَ اللهُ مَكَّةَ وَ دَخَلَ النَّاسُ فِي دِينِ اللهِ أَفْوَاجًا وَ اَنْزَلَ اللَّهُ بَرَأَةٌ قَالَ فِيْهَا۔(جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِم) (سورة التوبه: 73) وَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: (لَبِن لَّمْ يَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ ( إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى ) أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِلُوا تَقْتِيلاً)۔“ (سورة التوبه : 61،62) كتاب الصارم۔۔۔۔۔کاترجمہ کرتے ہوئے پروفیسر غلام احمد حریری نے اس عبارت کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ : " ہم تحریر کر چکے ہیں کہ رسول کریم صلی للی یک کفار و منافقین سے آغاز اسلام میں ایذا دینے والی باتیں سنتے مگر حکم خداوندی کی تعمیل میں صبر و تحمل سے کام لیتے۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ”کفار اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجئے اور ان کی ایذا کو نظر انداز کیجئے۔“ ان کو شرعی