توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 267 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 267

توہین رسالت کی سزا 267 } قتل نہیں ہے آنحضرت صلی للی کم کی بعثت کی ایک غرض مکارم اخلاق کی تمیم تھی۔آپ نے صبر وضبط کا جو عالی شان نمونہ خود پیش فرمایا وہی خُلق اور وہی وصف آپ اپنی امت میں بھی پیدا کرنے کے خواہش مند تھے اور فی الحقیقت آپ نے وہ اخلاق ان میں اس طرح پیدا فرمائے کہ جس کی نظیر کسی اور نبی کی امت میں نہیں ملتی۔مگر افسوس ہے کہ ایک عرصے بعد ان نورانی نمونوں پر گرد ڈالنے کے لئے عجیب و غریب روایات بھی اختراع کی گئیں اور صحیح روایات کی تشریحات بھی الٹ دی گئیں۔إِنَّا للهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔جہاں یہ صور تحال انتہائی افسوسناک ہے وہاں رسول اللہ صلی علی کلم نے اپنے سچے کو یہ تسلی بھی فراہم کر دی تھی کہ " اَلا تَرَوْنَ كَيْفَ يَضْرِفُ اللَّهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعْنَهُمْ ، يَشْتُبُونَ مُذَمَّبًا وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّبًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ “ (الصارم۔۔۔۔۔زیر عنوان اللہ تعالی یمی رسوله و بصرف عنہ اذی الناس، صفحہ 115:) کہ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مجھ سے کفار کی گالیوں اور ان کی لعنت کو دور رکھتا ہے۔وہ تو مذ تم کو گالی دیتے ہیں اور مذ تم پر لعنت کرتے ہیں مگر میں تو محمد ہوں (صلی نیکی)۔رسول اللہ صلی علیکم کا یہ قول ہمیں یہ ضمانت مہیا فرماتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دشمنوں کی گالیوں سے بچایا تھا اور آپ ہمیشہ محمد ہی تھے تو آج اپنے ہی دوستوں کی اڑائی ہوئی گرد سے بھی آپ کلیہ پاک ہیں اور تاروز قیامت پاک ہی رہیں گے۔انشاء اللہ الله سة رسول اللہ صلی الم کے ناموس کی حفاظت کے لئے آپ سے سچی غیرت، محبت اور فدائیت کا تقاضا یہ ہے کہ قتل و غارت سے اپنے دل و دماغ کو خون آلود کرنے کی بجائے آپ کے پاک اسوے پر عمل کرتے ہوئے آپ کے خصائل و اخلاق کی نقل کی جائے اور آپ کے رنگ اختیار کئے جائیں تا کہ دنیا محسن محمدی سے آگاہ ہو۔