توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 266 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 266

توہین رسالت کی سزا 266} قتل نہیں ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ کثیرا (الاحزاب:22) ترجمہ: یقینا تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ہر شخص کے لئے جو اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتا ہے اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِ يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ وقُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللهَ لا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (آل عمران : 32،33) ترجمہ : تو کہہ دے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا، اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔تو کہہ دے اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی۔پس اگر وہ پھر جائیں تو یقینا اللہ کا فروں کو پسند نہیں کرتا۔پھر اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے : "مَنْ يُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ أَطَاعَ الله (النساء: 81) کہ جو اس رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے۔الغرض قرآن کریم میں رسول اللہ صلی ا ظلم کی اطاعت کا بار بار حکم آیا ہے۔آپ نے جس کام سے اپنی نگرانی میں صحابہ کو بار بار روکا تھا اسے کسی جذباتی مسئلے کی آڑ لے کر جائز قرار دینا آپ کی حکم عدولی ہے بلکہ اوپر والی آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے روگردانی ہے۔آپ کے بعد خلفائے راشدین ہیں جن کی سنت پر عمل کی آپ نے تاکید فرمائی ہے۔اگر خلفائے راشدین نے بھی ایسا نہیں کیا تو پھر کسی اور امتی کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ قتل وخون کے نعرے تراشے۔