توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 265
توہین رسالت کی سزا { 265 ) قتل نہیں ہے یہ نعرہ اس وجہ سے بھی قطعی طور پر جھوٹا نعرہ ہے کہ رسول اللہ صلی للی یکم کے خلفاء نے جو آپ کے امتی بھی تھے، کسی کو اس وجہ سے نہ قتل کیا نہ کسی سے کرایا۔اپنے خلفاء کے بارہ میں رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا ہے : " عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِيْنَ الْمَهْدِيَّيْنَ تَمَسَّكُوا بِهَا ، وَ عَضُوْا عَلَيْهَا بالتواجد۔(سنن ابی داؤد کتاب السنته باب فی لزوم السنته و جامع ترمذی ابواب العلم باب ما جاء في اخذ بالسنۃ واجتناب البدعۃ) کہ تم پر فرض ہے میری اور میرے خلفائے راشدین مہدین کی سنت کو لازم پکڑو، اس سے چمٹے رہو اور اس کو اپنی داڑھوں سے مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو۔اپنے امتیوں کے لئے رسول اللہ صلی علی یم کی یہ تاکید ہے۔اگر آپ نے خود شاتم رسول کے قتل کی سنت قائم نہیں کی اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء نے بھی یہ سنت قائم نہیں کی تو پھر اس کے قائلین کسی کی سنت پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔رسول اللہ صل الی ایم نے کسی اور کی سنت کا تو ذکر نہیں فرمایا۔پس یہ خود تراشیدہ اور گمراہ کن نعرے ہیں جن کا شریعت اسلامیہ اور سنت رسول وسنت خلفاء سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔یہ نعرہ کس کا ہے اور کس نے اختراع کیا ہے اور کب اختراع کیا ہے ؟ کوئی نہیں جانتا۔خلفائے راشدین اور صحابہ میں سے بہر حال کسی کا نہیں ہے۔یہ نعرہ یا دعوی یقیناً بعد کی اختراع ہے۔یہ ظالمانہ نعرہ اس لئے بھی رڈ کرنے کے لائق ہے کہ یہ دیگر بہت سی آیات کے ساتھ درج ذیل آیات کریمہ کے بھی صریحاً خلاف ہے۔مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: