توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 263
توہین رسالت کی سزا { 263 ) قتل نہیں ہے یہ بالکل خلاف قرآن بیان ہے ، غلط تعلیم ہے جو اسوہ رسول صلی کم کے خلاف اور آپ کی اطاعت واتباع سے انکار یا فرار کا بہانہ ہے۔صحابہ کے پاک نمونے بھی قطعی طور پر اسے رڈ کرتے ہیں۔یہ کشت و خون کے رسیالوگوں کا صرف ایک دعوی ہے جس کے تحقق کے لئے ان کے پاس کوئی ثبوت اور دلیل نہیں۔قرآن کریم میں توہین رسول کے مرتکب کی سزا اگر قتل ہوتی تو یہ بالکل ہی نا ممکن تھا کہ رسول اللہ صلی ا یکم اس پر عمل نہ فرماتے۔آپ تو كَانَ خُلُقُهُ القرآن، مجتم قرآن تھے۔یہ کہنا کہ سزا کے حکم کے ہوتے ہوئے بھی آپ نے اس پر عمل نہ فرمایا، آپ پر قرآن کریم کی تعلیم پر عمل نہ کرنے کا الزام قائم کرنا ہے۔یہ ایک بھیانک جسارت ہے جو رسول اللہ صلی علیکم کے خلاف کی جاتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ صحیح مستند تاریخی ریکارڈ میں اور روایات صحیحہ اور صحیح آثارِ صحابہ میں متعدد واقعات ہیں جو انتہائی وضاحت کے ساتھ یہ ہدایت و رہنمائی مہیا کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے صحابہ کو کسی بھی گستاخ کو سزا دینے کی اجازت عطا نہیں فرمائی۔اس کتاب میں بھی ایسے واقعات کا بار بار ذکر ہوا ہے۔مگر اس روشن نمونے کے ہوتے ہوئے اس کے بر خلاف ایک واضح ہٹ دھرمی کے ساتھ رسول اللہ صلی ال نیم کے شرعی نمونے کو رڈ کرنے کے نعرے بلند کئے گئے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں بھی کسی نے آپ سے کسی کو قتل کرنے کا پوچھا ہے تو آپ نے اسے اس سے روکا ہے اور اسے قتل کرنے کی اجازت نہیں دی۔نیز اس کا پوچھنا ہی بتاتا ہے کہ اس کے لئے آپ کی اجازت درکار تھی۔کسی کو بھی کھلا اختیار نہ تھا کہ وہ از خود کسی کو قتل کرنے کی جسارت کرتا ہے۔الغرض سنت وحدیث رسول واضح طور پر گواہ ہیں کہ آپ ہمیشہ قتل کرنے سے روکتے تھے۔کسی کا از خود یہ اختیار لینا آپ کی نافرمانی ہے اور آپ سے آگے ہو جانے کی جسارت ہے۔