توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 262
توہین رسالت کی سزا { 262} قتل نہیں ہے آپ کے اس قول یا بیان فرمودہ اصول میں دراصل آپ کے متبعین کے لئے بڑا واضح سبق تھا کہ دشمن جو بھی اور جب بھی کوئی منفی بات آپ کی طرف منسوب کرنے کی کوشش کرے گا ، وہ آپ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔آپ وہ مزعومہ وجو د نہیں ہیں جس کی طرف کوئی مذمت منسوب ہو سکتی ہو۔آپ محمد ہیں (ملی ی ی ی یعنی مجسم حمد اور تعریف۔آپ کا نام بھی محمد ہے اور کام بھی محمد۔چنانچہ کسی کی منفی بات، گالی گلوچ وغیرہ وغیرہ آپ تک نہ پہنچ سکتے ہیں نہ آپ کی شان میں ذرہ بھر بھی تخفیف یا تنقیص کر سکتے ہیں۔کیونکہ آپ نے خود یہ ضمانت فراہم فرمائی ہے کہ " اللہ تعالیٰ مجھ سے کفار کی گالیوں اور ان کی لعنت کو دور رکھتا ہے۔“ پس اس ضمانت کو دل سے تسلیم کر کے شاتمین کو قتل کرنے کے غلط عقیدے کو ترک کر کے اسلام کی تعلیم کو اپنانا اور سنت رسول پر عمل کرناضروری ہے۔اس سے پہلے اسلام کے خلاف دشمن کو بہت سا مواد مل چکا ہے جس کے ذریعے وہ سید المعصومین رحمتہ للعالمین صلی ال ی م پر ظالمانہ حملے کرتے ہیں۔اسلام کی حسین اور عفو و در گزر پر مبنی اور امن و سلامتی پر استوار تعلیم اور اس پر رسول اللہ صلی یی کم کا خوبصورت نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کی اور دعوت و عمل کے لئے عملی اقدام کی ضرورت ہے۔امت کا فرض ہے کہ وہ شاتم رسول کو معاف نہ کرے!! الصارم۔۔۔۔۔میں متعدد مرتبہ لکھا گیا ہے : " إِنَّ النَّبِيَّ عَ اللهِ كَانَ لَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَمَّنْ شَتَمَهُ وَ سَبَّهُ فِي حَيَاتِهِ، وَلَيْسَ لِلْأُمَّةِ اَنْ تَعْفُو عَنْ ذلِكَ (الصارم۔۔۔۔۔زير عنوان متى اضمر المنافقوں النفاق، صفحہ 153) کہ نبی کریم صلی للی یکم کا کام تو تھا کہ آپ اپنی زندگی میں آپ پر سب و شتم کرنے والے کو معاف کریں مگر امت کے لئے ایسا نہیں ہے کہ وہ معاف کرے۔