توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 264 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 264

توہین رسالت کی سزا ( 264 ) قتل نہیں ہے دراصل قتل گستاخ کا یہ جھوٹا نعرہ ایک بد بختی کی جڑ ہے جس میں امت جکڑی گئی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شارع اسلام نبی خیر الانام صلی الی ہم سے آگے نکل کر ایک نئی شریعت اختراع کی گئی ہے۔آپ نے فرمایا تھا ” الاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَابِهِ“ (بخاری کتاب الجہاد و السير باب يقاتل من وراء الامام۔۔۔۔۔کہ امام ڈھال ہوتا ہے ، اس کے پیچھے لڑا جاتا ہے۔اس سے آگے نہیں۔لیکن مذکورہ بالا قسم کے خوفناک مقولے تراش کر رسول اللہ صلی علیم سے آگے بڑھا گیا ہے۔جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ہم نے پڑھا ہے کہ مستند روایات کا ایک مجموعہ ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ نے بعض جذباتی لمحوں میں قتل کی اجازت مانگنے پر بھی اس کی اجازت نہیں دی۔چنانچہ صحابہ کی اطاعت کا یہ کمال نمونہ تھا کہ اپنی انتہائی غیرت کی وجہ سے جن گستاخوں کے قتل کے لئے انہوں نے اپنے حبیب صلی للی نمی سے اجازت طلب کی تھی، ان میں سے کئی ایک ایسے بھی تھے جو آپ کی وفات کے بعد زندہ تھے ، صحابہ نے آپ کے بعد بھی انہیں قتل نہیں کیا۔صحابہ کامیہ پاک نمونہ افرادِ امت کے لئے ایک مشعل راہ ہے۔رسول اللہ صلی علی نام کے ان نجوم سے رہنمائی کا حصول رشد و ہدایت کا موجب ہے۔رسول اللہ صلی علیکم کے صحابہ آپ کی امت تھے اور امت کے اعلیٰ ترین نمونے اور مجسم اطاعت تھے۔انہوں نے جب ایسا نہیں کیا اور آپ نے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا تو پھر کسی اور کا یہ کہنا کہ ”نبی کریم ملی ایل ایل کا کام تو تھا کہ آپ اپنی زندگی میں آپ پر سب و شتم کرنے والے کو معاف کریں مگر امت کے لئے ایسا نہیں ہے کہ وہ معاف کرے کلیہ ایک جھوٹا نعرہ ہے۔ایسے جھوٹے نعرے کا رسول اللہ صلی علی کم اور آپ کے مقدس خلفاء اور صحابہ سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔صحابہ اطاعتِ رسول میں امت کے لئے بہترین اور سب سے اعلیٰ و اولی نمونہ تھے ، اور انہوں نے ایسا نہیں کیا۔