توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 251
توہین رسالت کی سزا { 251 ) قتل نہیں ہے کوئی معبود نہیں اور وہ ایک ہے۔جس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی نصرت فرمائی اور صرف اسی اکیلے نے تمام لشکروں کو شکست دی۔(بخاری کتاب الحج باب من لم يقرب الکعبۃ ) یعنی آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ تھا اور اسی کی طاقت تھی جس نے آپ کو ہر میدان اور ہر موقع پر فتح نصیب بنایا تھا۔بہر حال حنین کے میدان میں اس اعلان کے بعد آپ نے حضرت عباس کو بلایا۔ان کی آواز بلند تھی۔آپ نے فرمایا عباس! بلند آواز سے پکار کر کہو کہ اے میرے وہ ساتھیو! جنہوں نے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔اور اے وہ دوستو ! جو سورۃ البقرہ کے زمانہ سے ( یعنی اسلام کے بالکل ابتدائی زمانہ سے جب سورۃ البقرہ کا نزول ہوا) مسلمان ہو۔خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔آپ نے اپنی سواری سے نیچے اتر کر زمین سے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور دشمن کی طرف پھینکیں اور فرمایا شَاهَتِ الوُجُودُ “ کہ دشمنوں کے چہرے بگڑ جائیں، اب زور دار حملہ کر و دار دشمن پر خوب وار کرو۔یہ آواز سنتے ہی صحابہ نے ٹوٹ کر ایسی بے خودی سے حملہ کیا کہ دشمن شکست کھا کر پسپا ہو گیا۔(مسلم کتاب الجہاد با غزوة حنين و سنن الدار می کتاب السیر ) رسول اللہ صلی علیم کے پاک وجود میں اللہ تعالیٰ کی جو تجلی اور طاقت غزوہ حنین کے روز تھی اور جس کے ساتھ آپ اکیلے ہی ہر طاقت پر غالب تھے ، وہی طاقت روز اول سے آپ کے شامل حال تھی۔اس حقیقت کو جھٹلا کر آپ کے بارے میں ایسا تبصرہ کہ آپ نے کسی سے انتقام اس لئے نہ لیا یا کسی کو سزا اس لئے نہ دی یا کسی سے لڑائی اس لئے نہ کی یا کسی کو قتل اس لئے نہ کرایا کہ اس وقت اسلام یا مسلمان کی حالت ضعف کی تھی، دشمنانِ اسلام اور دشمنانِ رسول کا فعل ہے۔ایسا تبصرہ آپ کی پاک ذات پر بد نما داغ لگانے کی بد نما جسارت ہے۔الغرض اسی نوع