توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 250 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 250

توہین رسالت کی سزا { 250 ) قتل نہیں ہے تیروں کی اس موسلا دھار بارش سے بچاؤ کا بظاہر ایک ہی ذریعہ تھا کہ پیچھے ہٹ جایا جائے جہاں ایک تنگ راستہ تھا اور اس میں سے بھی ایک وقت میں چند آدمی ہی گزر سکتے تھے۔اس کے سوا بچنے کا ہر راستہ مسدود بھی تھا اور پُر خطر بھی ، لیکن یہی لمحہ تھا جو فیصلہ کن تھا۔چنانچہ اسی لمحے رسول اللہ صلی علیم نے بجائے بچاؤ کی راہ اختیار کرنے کے اپنی سواری کو ایڑ لگائی اور سرعت سے اس جانب مزید آگے بڑھنا شروع کر دیا جو تینوں جانب سے تیروں کے عین درمیان تھی۔یہاں آپ نے ایک پر جلال آواز کے ساتھ فرمایا: أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبُ أَنَابْنُ عَبْدِ المُطَّلِب“ کہ میں ایک نبی ہوں، میں جھوٹا نہیں ہوں اور میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔اس پر جلال آواز میں پیغام تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا نبی ہوں۔اسی ناتے خدا تعالیٰ میری مدد بھی فرماتا ہے اور حفاظت بھی۔اس میں ایک ذرہ برابر بھی شک کی گنجائش نہیں ہے۔اور یہ دعوی آج میں نیزوں کی انیوں، تیروں کی نوکوں اور تلواروں کی دھاروں پر بلند کر رہا ہوں اور یاد رکھو اس وقت موت کے خطر ناک مقام پر کھڑا ہو کر بھی دشمن کے حملے سے محفوظ ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مجھے خدائی کا مقام دے دو۔میں تو صرف ایک انسان ہوں اور تم جانتے ہو کہ میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں اور خدا تعالیٰ کا ایک بندہ ہوں۔آپ کے ساتھ کونسی طاقت تھی ؟ اس کا اعلان آپ نے کچھ دنوں پہلے ہی یعنی فتح مکہ کے وقت بھی اور بعد میں حجتہ الوداع کے موقع پر بھی فرمایا تھا کہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَ نَصَرَ عَبْدَهُ وَ هَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ تعالیٰ کے سوا