توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 249 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 249

توہین رسالت کی سزا 249} قتل نہیں ہے شامل ہو گئے تھے اور سمجھتے تھے کہ آج بہادری کے جوہر دکھائیں گے ، اس ناگہانی حملے سے بوکھلا گئے اور اس کی شدت سے حواس باختہ ہو کر واپس لگنے کی طرف بھاگنے لگے۔پرانے مسلمان تو اس قسم کے شدائد کے مقابلے کے عادی تھے۔مگر دو ہزار نو مسلم اور ان کے ساتھ مشرک بھی جب سہ طرفہ پر زور حملے سے اپنے گھوڑوں اور اونٹوں سمیت پلٹ کر بھاگے تو ان کی بھگدڑ کے باعث اصل اسلامی لشکر کے گھوڑے اور اونٹ بھی بدک گئے۔اس طرح سارا لشکر ہی بھگدڑ کا شکار ہو کر پیچھے کی طرف بھاگا۔صرف چٹانوں سے زیادہ مضبوط اور پہاڑوں سے زیادہ راسخ ، آنحضرت صلیالی کم کی اولوالعزم ذات تھی جو نیزوں اور تیروں کی اس سہ رخی بوچھاڑ میں پورے وقار کے ساتھ ایستادہ تھی۔آپ دو زر ہیں اور خود پہنے ہوئے سفید خچر پر سوار، ڈھال تھامے ہوئے ، بر اور است خدا تعالیٰ کی حفاظت میں سینہ سپر تھے۔آپ کے رنگ میں رنگین صحابہ بھی ہر حالت میں آپ پر جان نچھاور کرنے والے تھے۔ان میں سے چند وہ تھے جو بھگدڑ کے ریلے میں کسی قدر اِدھر اُدھر ہو گئے تھے لیکن چند ثانیوں میں ہی آپ کی طرف لپک آئے تھے۔بعض وہ تھے جو سواریوں کی سرکشی کے باعث ان سے کود کر فوڑا آپ کے پاس پہنچ گئے تھے اور بہت سے وہ تھے جو سواریوں کو بزور موڑ کر آپ کے ارد گرد آنے کے لئے جد و جہد میں تھے۔ادھر آنحضرت صلی للی کم بارش کی طرح برستے نیزوں اور تیروں میں بارہ ہزار میں سے چند جانثار صحابہ کے ساتھ کھڑے تھے۔شروع میں حضرت ابو بکر ، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت عباس، حضرت ابو سفیان بن الحارث ، ان کے بیٹے حضرت جعفر بن ابی سفیان، ابو سفیان کے بھائی حضرت ربیعہ بن حارث، حضرت اسامہ بن زید اور حضرت ایمن بن عبید رضی اللہ عنہم آپ کے پاس تھے۔( ابن ہشام وزرقانی غزوہ حنین )