توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 227
توہین رسالت کی سزا 227 H قتل نہیں ہے صلی ایم کی ایک آواز پر سب حق چھوڑ رہے تھے۔خود آپ بھی نمونہ پیش کرتے ہوئے اپنا حق عقیل کے لئے چھوڑ چکے تھے۔آپ کے ایک اشارے پر حضرت علی نے بھی اپنا حق چھوڑ دیا تھا اور اسی طرح دیگر صحابہ میں سے بھی جس کا کوئی حق لگے میں بنتا تھا، اس نے بھی وہ سب چھوڑ دیا۔یہ بھی عفو و در گز اور کرم و احسان کی ایک ایسی حسین ادا تھی جس نے نہ صرف قریش مکہ کے بلکہ سارے عرب کے دلوں کو اسلام کے، آپ کے اور خالق حقیقی کے قدموں میں لا ڈالا تھا۔افسوس ہے کہ ایسے دلکش اور حسین مضمون کو کتاب ' الصارم۔۔۔۔۔۔میں سب و شتم کے چکر میں الجھا کر تار تار کر دیا گیا ہے۔سب و شتم کی سزاؤں کے جھوٹے ذخیرے جمع کرنے کی بجائے اگر رسول اللہ صلی علیم کی ان احسان خیز فیصلوں اور رحمت افزا نمونوں کے حقیقی اور سچے مجموعے تیار کئے جاتے تو دنیا اس محسن انسانیت (میلی ) کی طرف امڈتی چلی آتی ، بالکل اسی طرح جس طرح کتے کے ظالم آپ کے حسن و احسان کی تجلیات کے مشاہدے کر کے ایک دوسرے سے بڑھ بڑھ کر اپنے دلوں کو آپ کے قدموں پر ڈال رہے تھے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کتاب ”الصارم“ کے یہ استدلالات خلاف حقیقت، خلاف قرآن اور خلافِ سنتِ رسول ہیں۔لہذا اس کتاب کو اپنے عقائد کی بنیاد بنانا ایک جھوٹا اقدام ہے۔