توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 226
توہین رسالت کی سزا { 226 H قتل نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ اپنے والد والے موروثی گھر میں ہی مقیم تھے۔یعنی انہوں نے اپنا حق لئے بغیر وہ جائیداد مدینے ہجرت کے ساتھ چھوڑ دی۔ادھر حضرت جعفر کی حبشہ سے واپسی تقریباً پندرہ سال بعد 7ھ میں مدینے میں ہوئی اور ایک سال بعد آپ جمادی الاول 8ھ میں جنگ موتہ میں شہید ہو گئے۔ان کی شہادت کے تقریباً چار ماہ بعد رمضان المبارک 8ھ میں مکہ فتح ہوا۔رسول اللہ صلى الم کا فرمان کہ "مومن کا فر کا وارث نہیں ہو گا اور کافر موسمن کا وارث نہیں ہو گا، فتح مکہ کے موقعے کا ہے۔اس وقت حضرت جعفر موجود نہیں تھے۔الصارم۔۔۔۔۔کامذ کورہ بالا تحریر میں حضرت جعفر“ کو حضرت علی کے ساتھ جائیداد کے مطالبے کے معاملے میں اکٹھا کرنا بتاتا ہے مصنف کو اس تاریخی ترتیب ، واقعات اور حقائق کا علم نہیں تھا۔لہذا محض ایک مفروضے پر وہ بنیاد قائم کی ہے جس کے نیچے زمین ہی کوئی نہیں ہے۔آنحضرت صلی ا م کی ہجرت کے بعد کتنے میں عقیل نے ابوطالب کی جائیداد کو ہی غصب نہیں کیا تھا بلکہ آپ کی موروثی جائیداد کو بھی فروخت کر دیا تھا جس کا آپ نے ذکر فرمایا تھا۔اس موقعے پر آپ جو فیصلہ فرماتے ، فاتح ہونے کی وجہ سے اسے نافذ کرنے میں کوئی دقت نہ تھی۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ سکتے میں تو کفار مکہ نے مسلمانوں کی جائیدادیں اور اموال غصب کئے تھے، لیکن ہجرت کرنے والے مسلمانوں نے تو ان کے اموال غصب نہیں کئے تھے۔چنانچہ ان سے یہ چھینی ہوئی جائیدادیں اور لوٹے ہوئے اموال واپس لینا چنداں مشکل نہ تھا۔مسلمان غالب تھے اور اہل مکہ مغلوب۔اس منظر میں رسول اللہ صلی اللی علم کا یہ فیصلہ کہ ” مؤمن کافر کا وارث نہیں ہو گا اور کافر مومن کا وارث نہیں ہو گا۔“ رحمت کا ایک ایسا فیصلہ تھا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔یعنی جو مسلمان کفارِ مکہ کے جبر و تشدد کا نشانہ بنتے رہے اور وہاں انہیں ان کی ہر مراد سے محروم کیا گیا تھا، آج وہ اپنی جائیدادوں کو دیکھتے ہوئے بھی اپنے محبوب و محسن آقا و مولیٰ