توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 196
توہین رسالت کی سزا { 196 } قتل نہیں ہے بعد ازاں ایک مرتبہ طلیحہ عمرے کی غرض سے شام سے لگے آیا۔جب راستے میں مدینے کے پاس سے گزرا تو لوگوں کو علم ہو گیا کہ وہ طلیحہ ہے۔انہوں نے حضرت ابو بکر کی خدمت میں اس کی اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کہ اس سے صرف نظر کرو۔اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت دے دی ہے اور وہ اسلام قبول کر چکا ہے۔“ ایک روایت کے مطابق طلیحہ نے حضرت عمرؓ کے عہد میں اسلام قبول کیا تھا اور پھر جنگ قادسیہ اور جنگ نہاوند میں بھی شامل ہو ا تھا۔( ایضا و اسد الغابہ والاصابہ : طلیحہ بن خویلد ) باوجود اس کے کہ وہ کھلا کھلا محارب تھا اور کئی صحابہ کی شہادت کا موجب بھی بنا تھا۔محاربت اور قصاص دونوں جرموں کی وجہ سے اس کے قتل کا کافی جواز موجود تھا مگر اسے در گزر کیا گیا اور قتل نہیں کیا گیا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح رسول اللہ صلی ا ہم نے ان لوگوں میں سے جن کے قتل کے حکم صادر فرمائے تھے، ہر ایک کو جو آپ کے پاس عفوو در گزر کی درخواست لے کر آیا، معاف کر دیا تھا۔بعینہ حضرت ابو بکر نے بھی طلیحہ سے عفو و در گزر کا سلوک فرمایا۔آپ نے یہاں نہ نقض عہد کی کوئی سزا دی اور نہ ہی فرد محاربت عائد کر کے اسے قتل کیا۔یہاں یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ حضرت ابو بکر نے اسے اس لئے قتل نہ کیا تھا کہ وہ دوبارہ اسلام قبول کر چکا تھا۔کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اس نے اپنی بغاوت اور محاربت میں شکست کے بعد اپنے اسلام کا کوئی اظہار نہ کیا تھا۔اس لئے اس محارب اور ناقض عہد کی سزا اگر قتل تھی تو اس کے عمرے پر آنے سے پہلے ہی اس کا تعاقب کر کے اسے قتل کیا جانا ضروری تھا۔مگر حضرت ابو بکر نے اس کے فرار پر اس سے صرفِ نظر کیا اور اس کا تعاقب کر کے اسے قتل نہ کیا۔پھر