توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 197
توہین رسالت کی سزا { 197 H قتل نہیں ہے اسے لوگوں سے بچانے کے لئے آپ نے گویا خود اس کی حفاظت قائم کر دی۔یہانتک کہ وہ مسلمان ہو گیا۔یہ بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے کہ محاربت یا نقض عہد کا تعلق کسی کے مذہب سے نہیں ہے بلکہ حکومت سے متعلق ہے۔یعنی اگر ایک مسلمان بھی اسلامی حکومت سے محاربت کرتا ہے اور اس کے قوانین کے عہد کو توڑتا ہے تو وہ ویسی ہی سزا کا مستحق ہوتا ہے جیسی کا غیر مسلم۔نیز ہر قانون کے توڑنے پر سزا اس کے مطابق ہوتی ہے۔یہاں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام عہد توڑنے والوں سے قتال کا حکم نہیں دیا بلکہ صرف ائمۃ الکفر سے قتال کا حکم دیا ہے یعنی باقی سب کی بقا کو مد نظر رکھا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اکا ؤ کافتنہ پرداز سرغنوں کے قتل سے عامتہ الناس جو تعداد میں کثرت میں ہوتے ہیں، محفوظ ہو جاتے ہیں۔حالانکہ وہ بھی اپنے سرغنوں کے ساتھ نقض عہد کے مر تکب ہو چکے ہوتے ہیں۔ان کے قتل کا حکم نہیں ہے۔عوام کو اکسانے والے اور فتنے بھڑ کانے والے صرف ائمہ الکفر سے قتال کا حکم ہے۔بے ربط اور الٹا استدلال: الصارم۔۔۔۔۔صفحه 28 زیر عنوان «فصل، الْأَدِلَّةُ مِنَ الْقُرْآنِ الدَّالَّةِ عَلَى كُفْرِ الشَّاتِهِ وقتله، پر سورۃ المجادلہ کی آیت 22 لا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَ اللهَ وَرَسُولَهُ " کے شانِ نزول کی بابت لکھا ہے کہ ”اِنَّ مِنْ سَبَبٍ نُزُولِهَا أَنَّ أَبَا قَحَافَةَ شَتَمَ النَّبِيَّ عليه وسلم فَاَرَادَ قَتْلَهُ وَأَنَّ ابْنَ أَبِي تَنَقَصَ النَّبِيَّ فَاسْتَاذَنَ ابْنُهُ النَّبِيَّ علاه الله فِي قَتْلِهِ لِذلِكَ فَثَبَتَ أَنَّ الْمُعَاذَ كَافِرٌ حَلَالُ الدَّم“ کہ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ ابو قحافہ