توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 190 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 190

توہین رسالت کی سزا { 190 | قتل نہیں ہے جہانتک ان آیات کا تعلق ہے ، تو ان کا پس منظر یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد ایک سال سے کچھ زائد عرصہ گزرنے پر جب حج کا مہینہ آیا تو آنحضرت صلی الی ایم نے حضرت ابو بکر کو پہلے اسلامی حج کی ادائیگی کے لئے امیر الحجاج مقرر فرمایا۔آپ ذوالقعدہ 9ھ میں بمطابق مارچ 631ء مدینہ سے روانہ ہوئے۔اس حج میں سنت ابراہیمی کے مطابق یعنی اسلامی رنگ میں مناسک حج کا قیام ہوا۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبہ کی انہی آیات میں اسے الج الاکبر کا نام بھی دیا۔حضرت ابو بکر ابھی مدینہ سے روانہ ہوئے ہی تھے کہ آنحضرت صلی اللہ تم پر سورۃ التوبہ کی وہ آیات نازل ہوئیں جن میں مشرکوں سے برآت یعنی الزام سے آزاد ہونے نیز چار ماہ کی مہلت کا ذکر ہے کہ وہ اس عرصے میں بے شک سارے عرب میں گھوم پھر کر دیکھ لیں اور پھر اسلامی حکومت سے کسی معاہدے میں داخل ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علم نے حضرت علی کو فوراً اپنی اونٹنی القصواء دے کر پیچھے روانہ فرمایا اور حکم فرمایا کہ یہ آیات وہ لوگوں کو خود پڑھ کر سنائیں۔قافلہ حج ابھی العرج کے مقام پر پہنچا تھا کہ حضرت علی حضرت ابو بکر کی خدمت میں پہنچ گئے۔حضرت علی نے آپ کو بتایا کہ آنحضرت صلی ایم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان لوگوں کے سامنے پڑھ کر سناؤں۔(زرقانی، ابن اثیر ، ابن کثیر ، ابن سعد، ابن ہشام حجة ابى بكر الصديق۔۔۔۔۔) یہ قافلہ کتنے پہنچ کر مناسک حج کی ادائیگی میں مصروف ہو گیا۔حضرت ابو بکڑ نے عرفہ کے روز خطبہ ارشاد فرمایا اور مناسک حج کی تعلیم دی اور مسائل حج بیان فرمائے۔آپؐ کے بعد حضرت علی نے آنحضرت صلی علم کے ارشاد کی تعمیل میں سورۃ التوبہ کی مذکورہ بالا آیات پڑھیں۔لکھا ہے کہ آپ نے سورۃ التوبہ کی ابتدائی چالیس آیات تلاوت کیں۔اس کے بعد ہر ایک عہد والے کو اس کا عہد واپس کیا اور مشرکوں کو جو مسلمان ہونا نہیں چاہتے تھے ، ان آیات میں