توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 189
توہین رسالت کی سزا 189 } قتل نہیں ہے کوئی شرط نہیں رکھی۔اگر یہ ایسا اہم مسئلہ تھا تو معاہدات میں یہ شق نمایاں طور پر درج ہونی چاہئے تھی۔پس فقہاء میں سے کسی کا اگر ایسا اجتہاد یا استدلال ہے جو کسی وقتی ضرورت کے تحت کیا گیا تھا تو یہ محض اس کا اپنا وقتی استدلال یا اجتہاد تھا اور اس کی حیثیت صرف وقتی ہی تھی اور اسی علاقے تک محدود تھی جہاں یہ ضرورت پید ا ہوئی تھی۔اس کا شریعت اسلامیہ کے مستقل قوانین اور عقائد سے ہر گز کوئی تعلق نہیں۔اسی طرح قرآن کریم اور سنت رسول اور احادیث صحیحہ میں اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ کبھی کسی کے گالی دینے سے کسی پر نقض عہد کی فرد عائد کی گئی ہو۔نیز آنحضرت صلی ا ہم نے کبھی بھی اس وجہ سے کسی کو ناقض عہد قرار دے کر قتل نہیں کرایا۔آپ کے بعد خلفائے راشدین نے بھی ایسا نہیں کیا۔احادیث صحیحہ کے مطابق تو نہ صرف یہ کہ آپ نے کبھی ایسا حکم نہیں دیا بلکہ اس کے برعکس جب بھی کوئی آپ کی توہین کا مر تکب ہوا اور صحابہ نے اسے سزا دینے کے لئے آپ سے اجازت طلب کی تو بھی آپ نے قطعاً ایسی اجازت نہیں دی۔ایسے واقعات ایک سے زائد دفعہ ہوئے اور وہ احادیث صحیحہ میں محفوظ ہیں۔لہذا آپ کے اس طرزِ عمل، فیصلوں اور مستقل سنت کے برعکس ایسا استدلال ہر گز درست قرار نہیں پا سکتا۔الغرض کتاب "الصارم۔۔۔۔۔میں یہ جو دعوای کیا گیا ہے کہ ”رسول اللہ صلی للی کم پر سب و شتم سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ایک ایسا خود ساختہ اور بے بنیاد دعوی ہے جو قرآن کریم کے احکام ، آپ کی سنت ، واضح ہدایات اور مسلسل عمل سے ہر گز تائید یافتہ نہیں۔دوسری بات جو کی گئی ہے کہ ”عہد توڑنے کی سزا قتل ہے۔“ اور اس کا نتیجہ یہ نکالا گیا ہے کہ ”سب و شتم کرنے والا لاز ما قتل کیا جائے گا۔اس کے ثبوت کے لئے سورۃ التوبہ کی چند ابتدائی آیات پیش کر کے استدلال کیا گیا ہے۔