توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 191 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 191

توہین رسالت کی سزا 191 { قتل نہیں ہے مذکور چار ماہ کی مہلت دی کہ اگر وہ اس مدت میں کسی معاہدے میں منسلک ہو کر اسلامی سلطنت کا جزونہ بنیں گے تو پھر اس کے بعد اللہ اور اس کے رسول صلی علیم پر کسی قسم کا کوئی الزام نہیں ہو گا۔اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اہل علم کی طرف سے یہ برکت تھی جو سورۃ التوبہ میں پیش کی گئی ہے۔اس پیغام میں چار ماہ کی مدت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سفر کرنے والا اس عرصے میں پورے خطہ عرب میں گھوم پھر کر جائزہ لے کر فیصلہ کر سکتا ہے اور نیا معاہدہ کر سکتا ہے۔حضرت علیؓ نے مزید یہ بھی فرمایا: وَمَنْ كَانَ لَهُ عَهْدٌ عِنْدَ رَسُولِ الله عليه و الله فَهُوَ إِلى مُدَّتِهِ “ (زاد المعاد، فصل فی حجۃ ابی بکر الصديق۔۔۔) کہ جس شخص کا رسول اللہ صلی الی ظلم کے ساتھ کوئی عہد ہو گا وہ اس کی مدت تک اس کے ساتھ رہے گا۔یہ اعلان خطہ عرب میں امن و سلامتی کے عہد و پیمان کا ایک واضح اعلان اور انتظام تھا۔مشرکین نے حضرت علی سے کہا کہ ہم تمہارے اور تمہارے چچازاد کے عہد سے بری ہوتے ہیں، سوائے جنگ و حرب کے عہد کے۔پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ان میں سے بعض کہنے لگے کہ جب قریش ہی مسلمان ہو چکے ہیں تو تم کر بھی کیا سکتے ہو ؟ چنانچہ اس موقعے پر بہت سے مشرک بھی مسلمان ہو گئے۔(طبری و ابن اثیر 9ھ) سورۃ التوبہ کی جو آیات کتاب 'الصارم۔۔۔۔۔میں اپنے مدعا کے لئے لکھی گئی ہیں، ان درج ذیل آیات میں سے آیات 7،8،12،13 اور 14 ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : بَرَاء ةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِيْنَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِى اللهِ وَأَنَّ اللهَ مُخْرِئُ الْكَافِرِينَ وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّهِ