توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 119
توہین رسالت کی سزا { 119 قتل نہیں ہے کر اس طرح پیش کرنا کہ گویا آنحضرت علی علی کم باقی ہر حرکت برداشت کر لیتے تھے مگر اپنے اوپر کسی گالی کو برداشت نہیں کر سکتے تھے اور جب تک اس بد زبان شاتم کو قتل نہ کروالیتے نعوذ باللہ آپ کا غیظ و غضب فرو نہ ہو تا تھا۔إِنَّ الله وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔دورانِ جنگ مبارزت میں کسی کے قتل کے واقعے کو سب و شتم رسول کی ذیل میں لانا ہی بتاتا ہے کہ تکلف کے ساتھ اور کھینچ تان کر ایک خود تراشیدہ جھوٹے مسئلے کو تقویت دی جارہی ہے جس کا اسلام کی تعلیم سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔اس روایت پر ملا علی قاری نے یہ تبصرہ تحریر کیا ہے کہ عبد الرزاق نے یہ روایت عکرمہ سے مرسل ذکر کی ہے۔یعنی اس کی سند میں راویوں کا سلسلہ ٹوٹتا ہے۔اور سند صحابی تک نہیں پہنچتی۔یعنی یہ روایت ہر گز قابل استناد و اعتبار نہیں ہے۔ہاں یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اس روایت کی سند صحابی تک تو نہیں پہنچتی مگر ان راویوں تک پکی ہے جو روایتیں گھڑنے میں مشہور معروف ہیں اور جھوٹے ہیں۔حضرت زبیر والی جو روایت کتاب الشفاء میں ہے۔اس کی شرح میں لکھا ہے کہ اس کا راوی عکرمہ ہے۔(شرح الشفاء القسم الرابع فی بیان ماھو فی حقہ علیہ السلام سب او نقص صفحہ 406) یعنی نہلے پر دہلا ہے۔ایک تو کتاب کا مصنف عبد الرزاق ہے اور اوپر سے روایت کا راوی ہے عکرمہ۔لہذ امسئلہ دو دو چار کی مانند حل ہو جاتا ہے کہ یہ قطعی طور پر وضعی روایت ہے۔عملاً غزوہ احزاب کے علاوہ اور ایسا کوئی واقعہ تاریخ اسلام میں رو پذیر نہیں ہوا۔*****