توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 120 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 120

توہین رسالت کی سزا 120 } قتل نہیں ہے 14 نابینا اور اس کی بیوی عليه عَنْ عِكْرَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ أَعْلَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ عل الله وَتَقَعُ فِيْهِ فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِي النَّبِي علاه الله وَ تَشْتُمُهُ فَأَخَذَ المِغْوَلَ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَا عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا فَوَقَعَ بَيْنَ رِجْلَيْهَا طِفْلَ فَلَطَّخَتْ مَا هُنَاكَ بِالدَّمِ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ عَليه السلام فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ: اَنْشُدُ اللهَ رَجُلاً فَعَلَ مَا فَعَلَ لِي عَلَيْهِ حَقٌّ إِلا قَامَ فَقَامَ الْأَعْمَى يَتَخَطَّى النَّاسَ وَهُوَ يَتَزَلْزَلُ حَتَّى قَعَدَ بَيْنَ يَدَى النَّبِي فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ : أَنَا صَاحِبُهَا كَانَتْ تَشْتُبُكَ وَتَقَعُ فِيْكَ فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي وَازْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ وَلِى مِنْهَا ابْنَانِ مِثْلُ اللُّوْلَوتَيْنِ وَكَانَتْ بِي رَفِيْقَةٌ فَلَمَّا كَانَتْ البَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ وَتَقَعُ فِيْكَ فَأَخَذْتُ المِغْوَلَ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا وَاتَّكَأْتُ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلْتُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ عَليه والله : الاشْهَدُوْا أَنَّ دَمَهَا هَدَر۔“ ( ابوداؤ د کتاب الحدود الحكم فيمن سب رسول الله صلى الرم) کہ عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے بیان فرمایا کہ ایک نابینا تھا جس کی اتم الولد تھی۔(یعنی وہ لونڈی جو اس شخص کے بچے کی ماں تھی) جو رسول اللہ صلی اللہ تم کو گالیاں دیا کرتی تھی۔وہ اسے منع کرتا تھا مگر وہ رکتی نہ تھی۔وہ اسے ڈانٹتا تھا لیکن وہ باز نہ آتی تھی۔ایک رات وہ نبی کریم صلی علیہ ہم کو برا بھلا کہنے اور گالیاں دینے لگی۔تو اس نے خنجر لیا اور اس کے پیٹ میں اتار دیا اور خود اس پر ٹیک لگادی حتی کہ اسے قتل کر دیا۔اس حالت میں اس کی ٹانگوں میں اس کا بچہ بھی آگیا جو خون میں لت پت ہو گیا۔جب صبح ہوئی تو یہ واقعہ رسول اللہ صلی تعلیم کی خدمت میں ذکر کیا گیا۔آپ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا : میں ایسا کرنے والے کو اللہ