توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 118
توہین رسالت کی سزا { 118 } قتل نہیں ہے اسی روایت میں فَبَارَزَہ کے لفظ سے معلوم ہو تا ہے کہ یہ کسی جنگ کا موقع ہے اور مبارزت کا منظر ہے۔اس زمانے میں جب جنگ ہوتی تھی تو ابتداء میں ایک ایک کر کے دشمن کا بہا در پہلوان نکلتا تھا اور اپنے مقابل پر آنے کے لئے وہ آواز دیتا تھا تو ادھر سے بھی اس سے مقابلے کے لئے ایک بہادر جانباز نکلتا تھا۔چنانچہ اس زیر بحث روایت میں وہی منظر پیش ہوا ہے کہ اس وقت ایک دشمن اسلام نے جنگ کے دوران نکل کر للکارا ہے۔آنحضرت صلی ا ہم نے اعلان فرمایا اور یہی آپ کا دستور تھا کہ آپ اعلان فرماتے تھے کہ اس دشمن سے نپٹنے کے لئے کون نکلے گا؟ چنانچہ اس وقت آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حضرت زبیر نکلے اور انہوں نے اس بالمقابل دشمن کو قتل کر دیا۔اس مبارزت والے واقعے کو غزوہ احزاب سے منسلک تسلیم کیا جائے تو اسے درست قرار دیا جاسکتا ہے۔مگر اس کے باوجو د بھی اسے توہین رسول کے ضمن میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔اس کا اس مسئلے سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔علاوہ ازیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس روایت کا مصنف جھوٹا اور اول درجے کا جھوٹا ہے ،ایسا جھوٹا کہ واقدی کا چہرہ بھی اس کے سامنے سچادکھائی دے۔احادیث صحیحہ اور مستند تاریخی روایات کے مطالعے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ اس کے علاوہ کوئی اور مستند صحیح واقعہ آنحضرت صلی الیم کی زندگی میں ایساد کھائی نہیں دیتا جس میں حضرت زبیر نے کسی کو عام حالات میں آپ کے رُوبر و قتل کیا ہو۔اگر اس واقعے کے ساتھ روایتیں بنانے والوں نے تراش خراش کی ہے تو الگ بات ہے مگر اصل واقعے کے مطابق تو میدان کارزار میں دشمن کا دفاع کرنا اور دفاع میں اس کا قتل کرنا کسی قسم کے اعتراض کے تحت نہیں آتا۔یہ تو لڑائی کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔مگر اس کو بدل