توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 73 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 73

توہین رسالت کی سزا { 73 ) قتل نہیں ہے ایک اور دلیل عصماء اور ابو عفک کے قتل کے ان واقعات کے غلط ہونے کی یہ ہے کہ ان دونوں قصوں کا زمانہ وہ بیان کیا گیا ہے جس کے متعلق جملہ موئز خین کا اتفاق ہے کہ اس وقت تک ابھی مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان کوئی جھگڑا یا تنازعہ رونما نہیں ہوا تھا۔چنانچہ تاریخ میں غزوہ بنی قینقاع کے متعلق یہ بات مسلّم طور پر بیان ہوئی ہے کہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان یہ پہلی لڑائی (اواخر 2ھ) تھی جو وقوع میں آئی اور یہ کہ بنو قینقاع وہ پہلے یہودی تھے جنہوں نے اسلام کی عداوت میں عملی کاروائی کی تھی۔(ابن سعد ، غزوہ بنی قینقاع و ابن ہشام، امر بنی قینقاع و طبری سن 2ھ غزوہ بنی قینقاع ) پس یہ کس طرح قبول کیا جا سکتا ہے کہ اس غزوے سے پہلے یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اس قسم کا قتل و خون ہو چکا تھا۔پھر اگر غزوہ بنو قینقاع سے قبل ایسے واقعات ہو چکے تھے تو یہ ناممکن تھا کہ اس غزوے کی وجوہات وغیرہ کے بیان میں ان واقعات کا ذکر نہ آتا۔کم از کم اتنا تو ضروری تھا کہ یہودی لوگ جو ان واقعات کی بناء پر مسلمانوں کے خلاف ایک ظاہری رنگ اعتراض کا پیدا کر سکتے تھے کہ انہوں نے ان کے ساتھ عملی چھیڑ چھاڑ کرنے میں پہل کی ہے۔چنانچہ وہ ان واقعات کے متعلق واویلا کرتے۔اگر کسی تاریخ میں حتٰی کہ خود ان مورخین کی کتب میں بھی جنہوں نے یہ قصے روایت کئے ہیں قطعاً یہ ذکر نہیں ہے کہ مدینے کے یہود نے کبھی کوئی ایسا اعتراض کیا ہو۔اگر کسی شخص کو یہ خیال پیدا ہو کہ شاید انہوں نے اعتراض اُٹھایا ہو مگر مسلمان مورخین نے اس کا ذکر نہ کیا ہو تو یہ ایک غلط اور بے بنیاد خیال ہو گا۔کیونکہ جیسا کہ گزشتہ واقعے کے ذکر میں بیان کیا جا چکا ہے کبھی کسی مسلمان محدث یا مورخ نے مخالفین کے کسی اعتراض پر پردہ نہیں ڈالا، چنانچہ مثلاً جب سریہ نخلہ والے قصے میں مشرکین مکہ نے مسلمانوں کے خلاف حرمت والے مہینوں کی بے حرمتی کا الزام لگایا تو مسلمان مورخین نے کمال دیانتداری سے اُن کے اس اعتراض کو اپنی کتابوں میں درج کر دیا۔پس اگر اس موقع پر بھی یہود کی طرف سے کوئی اعتراض ہوا ہوتا ، تو تاریخ اس کے ذکر سے خالی نہ ہوتی۔الغرض