توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے

by Other Authors

Page 72 of 412

توہینِ رسالت کی سزا قتل نہیں ہے — Page 72

توہین رسالت کی سزا ( 72 )- قتل نہیں ہے در حقیقت رونما ہوا ہو تاتو کوئی وجہ نہیں تھی کہ کتب حدیث اور بعض کتب تاریخ میں اس کا ذکر موجود نہ ہوتا۔پس اس کے قتل کا ذکر حدیث کی کسی کتاب میں نہ پایا جانا، بلکہ ابتدائی مورخین میں سے بعض مستند مورخین کا بھی اس کے درج کرنے سے پہلو تہی کرنا اس بات کو گونہ یقینی بنا دیتا ہے کہ یہ قصہ بناوٹی ہے اور کسی طرح بعض روایتوں میں راہ پا کر تاریخ کا حصہ بن گیا ہے۔الغرض اس قصے کی جملہ تفصیلات، کوائف، واقعات اور زمانے میں اس قدر واضح اختلافات اس قصہ کو وضعی اور جعلی ثابت کرتے ہیں۔جیسا کہ ابن سعد اور واقدی وغیرہ نے ابو عفک کے قاتل کا نام سالم بن عمیر لکھا ہے لیکن بعض روایتوں میں اس کا نام سالم بن عمرو بیان ہوا ہے۔(زرقانی، قتل ابو عفک الیہودی) اور ابن عقبہ نے سالم بن عبد اللہ بیان کیا ہے۔( الاصابہ و الاستیعاب ذکر سالم بن عمیر ) اسی طرح ابو عنک مقتول کے متعلق ابن سعد نے لکھا ہے کہ وہ یہودی تھا ، لیکن واقدی اسے یہودی نہیں لکھتا۔(کتاب مغازی للواقدی، سریہ قتل ابی عنک) پھر ابن سعد اور واقدی دونوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سالم نے خود جوش میں آکر ابو عفک کو قتل کر دیا تھا، لیکن ایک روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اسے آنحضرت صلی الم کی ہدایت سے قتل کیا گیا تھا۔(ابن ہشام ، سریه سالم بن عمیر لقتل ابی عنک) زمانہ قتل کے متعلق بھی ابن سعد اور واقدی اسے عصماء کے قتل کے بعد رکھتے ہیں لیکن ابن اسحاق اور ابو الربیع اسے عصماء کے قتل سے پہلے بیان کرتے ہیں۔( ابن ہشام ، سری سالم بن عمیر لقتل ابی عنک وزرقانی، قتل عمير العصماء) الغرض یہ جملہ اختلافات رہنمائی کرتے ہیں کہ یہ قصہ جعلی اور وضعی ہے یا اگر اس قتل کی کوئی حقیقت یا وجہ ہے تو وہ ایسی مستور ہے کہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیا ہے اور کس نوعیت کی ہے۔